کراچی (ویب ڈیسک) بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ترجمان نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے مقام پر پانی کی عدم فراہمی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں اور بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
ترجمان بلدیہ عظمیٰ کراچی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ واٹر ٹینکرز یا فائر بریگیڈ کے پاس آگ بجھانے کیلئے پانی موجود نہیں تھا، جو کہ حقائق کے منافی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ واٹر بورڈ کے حکام نے واقعے کے فوری بعد پانی کی فراہمی شروع کر دی تھی اور متعلقہ ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی، کسی بھی حادثے کی اطلاع ملنے اور جائے وقوعہ تک پہنچنے میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے، تاہم تمام متعلقہ ادارے اور عملہ بروقت موقع پر پہنچا اور ریسکیو آپریشن میں حصہ لیا۔

انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی الزام تراش ویڈیوز میں خود پانی کی موجودگی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جس سے پانی نہ ہونے کے دعوے غلط ثابت ہوتے ہیں۔

ترجمان بلدیہ عظمیٰ کراچی کا کہنا تھا کہ ریسکیو آپریشن مختلف ادارے مشترکہ طور پر انجام دے رہے ہیں اور پوری کارروائی میڈیا کی مکمل نگرانی میں جاری ہے، جس سے شفافیت واضح ہے۔

آخر میں ترجمان نے عوام سے اپیل کی کہ مفروضوں اور افواہوں پر مبنی بیانات سے گریز کریں اور انتظامیہ کو ریسکیو آپریشن اور امدادی سرگرمیاں مؤثر انداز میں مکمل کرنے دیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بلدیہ عظمی

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا