گرین لینڈ برائے فروخت نہیں، صدر ٹرمپ کے منصوبے کے خلاف ڈنمارک میں شدید احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
گرین لینڈ اور ڈنمارک میں ہزاروں افراد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کے خلاف احتجاج کیا ہے جس کے تحت وہ گرین لینڈ کو امریکا کے زیرِ قبضہ لانا چاہتے ہیں۔
ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن سمیت مختلف شہروں اور گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک (Nuuk) میں مظاہرے کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ گرین لینڈ حاصل کرنے پر بضد، یورپی اتحادی ڈنمارک کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوئے جب امریکی کانگریس کا ایک وفد کوپن ہیگن کے دورے پر موجود ہے۔
وفد کے سربراہ، ڈیموکریٹک سینیٹر کرس کونز نے صدر ٹرمپ کے بیانات کو ’غیر تعمیری‘ قرار دیا۔
Today in Copenhagen, 15.
— COMMISSIONS ARE CLOSED! (@Keanu_art) January 17, 2026
گرین لینڈ کو طاقت کے ذریعے حاصل کرنے کے امکان کو مسترد کرنے کے بجائے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ علاقہ امریکا کی قومی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔
انہوں نے اس منصوبے کی مخالفت کرنے والے یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سے درآمد ہونے والی اشیا پر 10 فیصد امریکی ٹیرف لاگو ہوگا۔
مزید پڑھیں: ڈنمارک، برطانیہ اور فرانس نے ٹرمپ کی گرین لینڈ پر دعوے کی مخالفت
انہوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگر گرین لینڈ کی ’مکمل اور حتمی خریداری‘ پر معاہدہ نہ ہوا تو یکم جون سے یہ ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔
گرین لینڈ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے کم گنجان ہے، تاہم قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔
شمالی امریکا اور آرکٹک کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ میزائل حملوں کی ابتدائی وارننگ، اور سمندری نگرانی کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں: برطانوی وزیرِاعظم کا ٹرمپ کو سخت پیغام، نیٹو اتحادیوں پر ٹیرف کو ’غلط قدم‘ قرار دے دیا
صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا گرین لینڈ کو ’آسان یا مشکل طریقے‘ سے حاصل کرے گا، جسے ناقدین طاقت کے استعمال کی دھمکی سے تعبیر کر رہے ہیں۔
کوپن ہیگن میں مظاہرین نے ’گرین لینڈ سے دور رہو‘ اور ’گرین لینڈ گرین لینڈرز کا ہے‘ جیسے نعروں پر مشتمل پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔
یہ مظاہرے گرین لینڈ اور ڈنمارک کی غیر سرکاری تنظیموں کے زیرِ اہتمام ہوئے۔
مزید پڑھیں:
انویٹ تنظیموں کی نمائندہ کیمیلا سیزنگ نے کہا کہ ہم ڈینش سلطنت اور گرین لینڈ کے حقِ خودارادیت کے احترام کا مطالبہ کرتے ہیں۔
نوک میں گرین لینڈ کے وزیرِاعظم جینس فریڈرک نیلسن بھی مظاہرین کے ساتھ شریک ہوئے، جنہوں نے امریکی قونصل خانے کی جانب مارچ کیا۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق 85 فیصد گرین لینڈ کے عوام امریکا سے الحاق کے خلاف ہیں۔
مزید پڑھیں:
ادھر یورپی ممالک نے ڈنمارک کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرکٹک خطے کی سلامتی نیٹو کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
فرانس، جرمنی، سویڈن، ناروے، فن لینڈ، نیدرلینڈز اور برطانیہ نے محدود تعداد میں فوجی دستے گرین لینڈ بھیجے ہیں۔
امریکا کے اندر بھی گرین لینڈ کے حصول پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں:
امریکی وفد میں شامل سینیٹر کرس کونز کا کہنا ہے کہ آرکٹک سلامتی کے لیے سرمایہ کاری پر بات ہو سکتی ہے، مگر الحاق کا بیانیہ مناسب نہیں۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ امریکا کے زیرِ سایہ گرین لینڈ کے عوام زیادہ محفوظ اور خوشحال ہوں گے، جبکہ ان کے بقول ڈنمارک کے پاس شمالی خطے میں درکار وسائل اور صلاحیت موجود نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتجاج امریکا ٹرمپ ڈنمارک گرین لینڈ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا گرین لینڈ گرین لینڈ کے مزید پڑھیں ٹرمپ کے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔