گرین لینڈ اور ڈنمارک میں ہزاروں افراد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کے خلاف احتجاج کیا ہے جس کے تحت وہ گرین لینڈ کو امریکا کے زیرِ قبضہ لانا چاہتے ہیں۔

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن سمیت مختلف شہروں اور گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک (Nuuk) میں مظاہرے کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ گرین لینڈ حاصل کرنے پر بضد، یورپی اتحادی ڈنمارک کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے

یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوئے جب امریکی کانگریس کا ایک وفد کوپن ہیگن کے دورے پر موجود ہے۔

وفد کے سربراہ، ڈیموکریٹک سینیٹر کرس کونز نے صدر ٹرمپ کے بیانات کو ’غیر تعمیری‘ قرار دیا۔

Today in Copenhagen, 15.

000 people showed up to protest against the American dictator ???????????????????? pic.twitter.com/uvdfkKsNFg

— COMMISSIONS ARE CLOSED! (@Keanu_art) January 17, 2026

گرین لینڈ کو طاقت کے ذریعے حاصل کرنے کے امکان کو مسترد کرنے کے بجائے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ علاقہ امریکا کی قومی سلامتی کے لیے نہایت اہم ہے۔

انہوں نے اس منصوبے کی مخالفت کرنے والے یورپی ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سے درآمد ہونے والی اشیا پر 10 فیصد امریکی ٹیرف لاگو ہوگا۔

مزید پڑھیں: ڈنمارک، برطانیہ اور فرانس نے ٹرمپ کی گرین لینڈ پر دعوے کی مخالفت

انہوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگر گرین لینڈ کی ’مکمل اور حتمی خریداری‘ پر معاہدہ نہ ہوا تو یکم جون سے یہ ٹیرف بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔

گرین لینڈ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے کم گنجان ہے، تاہم قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔

شمالی امریکا اور آرکٹک کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے یہ علاقہ میزائل حملوں کی ابتدائی وارننگ، اور سمندری نگرانی کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: برطانوی وزیرِاعظم کا ٹرمپ کو سخت پیغام، نیٹو اتحادیوں پر ٹیرف کو ’غلط قدم‘ قرار دے دیا

صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا گرین لینڈ کو ’آسان یا مشکل طریقے‘ سے حاصل کرے گا، جسے ناقدین طاقت کے استعمال کی دھمکی سے تعبیر کر رہے ہیں۔

کوپن ہیگن میں مظاہرین نے ’گرین لینڈ سے دور رہو‘ اور ’گرین لینڈ گرین لینڈرز کا ہے‘ جیسے نعروں پر مشتمل پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔

یہ مظاہرے گرین لینڈ اور ڈنمارک کی غیر سرکاری تنظیموں کے زیرِ اہتمام ہوئے۔

مزید پڑھیں:

انویٹ تنظیموں کی نمائندہ کیمیلا سیزنگ نے کہا کہ ہم ڈینش سلطنت اور گرین لینڈ کے حقِ خودارادیت کے احترام کا مطالبہ کرتے ہیں۔

نوک میں گرین لینڈ کے وزیرِاعظم جینس فریڈرک نیلسن بھی مظاہرین کے ساتھ شریک ہوئے، جنہوں نے امریکی قونصل خانے کی جانب مارچ کیا۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق 85 فیصد گرین لینڈ کے عوام امریکا سے الحاق کے خلاف ہیں۔

مزید پڑھیں:

ادھر یورپی ممالک نے ڈنمارک کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرکٹک خطے کی سلامتی نیٹو کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

فرانس، جرمنی، سویڈن، ناروے، فن لینڈ، نیدرلینڈز اور برطانیہ نے محدود تعداد میں فوجی دستے گرین لینڈ بھیجے ہیں۔

امریکا کے اندر بھی گرین لینڈ کے حصول پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں:

امریکی وفد میں شامل سینیٹر کرس کونز کا کہنا ہے کہ آرکٹک سلامتی کے لیے سرمایہ کاری پر بات ہو سکتی ہے، مگر الحاق کا بیانیہ مناسب نہیں۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ امریکا کے زیرِ سایہ گرین لینڈ کے عوام زیادہ محفوظ اور خوشحال ہوں گے، جبکہ ان کے بقول ڈنمارک کے پاس شمالی خطے میں درکار وسائل اور صلاحیت موجود نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احتجاج امریکا ٹرمپ ڈنمارک گرین لینڈ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا گرین لینڈ گرین لینڈ کے مزید پڑھیں ٹرمپ کے کے لیے

پڑھیں:

کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان

کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے  جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔

حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔

2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔

 کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم  اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک  ہے۔

ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو  نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک  محیط  ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام  تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔

سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔

یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔

صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔

نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ  سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔

پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن  اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔

اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے  80 فیصد  قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان