خطے میں بھارت کی گرفت ڈھیلی، ہمسایہ ممالک نے نئی سفارتی راہیں تلاش کرلیں
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
خطے میں بھارت کا علاقائی اثر و رسوخ کمزور ہونے لگا ہے اور اس کے ہمسایہ ممالک بتدریج نئی سفارتی سمت اختیار کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق بھارت کی سخت گیر اور انتہاپسند پالیسیوں کے باعث اسے عالمی اور علاقائی سطح پر سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔
جنوبی ایشیا میں بھارت کی مبینہ بالادستی کے منصوبے کو متعدد سفارتی ناکامیوں کا سامنا رہا ہے، جبکہ مودی حکومت کو خارجہ محاذ پر مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہندوتوا پر مبنی سیاسی نظریے نے بھارت کو اپنے ہی خطے میں تنہا کر دیا ہے۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش اور میانمار اب بھارت کے روایتی اثر سے نکل کر پاکستان اور چین کے ساتھ تعلقات مضبوط کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی سفارتی کمزوریوں نے اسے سنگین سیاسی اور جغرافیائی چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔
مزید پڑھیںمودی حکومت کے شائننگ انڈیا دعوے عالمی تجزیے میں بے نقاب
بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ حکومت کے خاتمے اور ان کی بھارت میں خود ساختہ جلاوطنی کے بعد وہاں بھارت مخالف جذبات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہر سری ردھا دتہ کے مطابق بھارت کو بنگلہ دیش اور میانمار دونوں کے ساتھ تعلقات میں پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے۔
سابق سفارتکار کے پی فے بین کا کہنا ہے کہ بھارت مسلسل اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلقات قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بنگلہ دیش مستقبل میں اپنے دفاعی تعلقات کے لیے پاکستان کی جانب مزید جھکاؤ اختیار کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان کی سیاسی، عسکری اور معاشی پیش رفت نے اسے عالمی سطح پر ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد ملک کے طور پر نمایاں کیا ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کا کردار مزید اہم ہوتا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش کے مطابق بھارت کی کا سامنا
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔