Express News:
2026-07-24@01:41:30 GMT

مودی حکومت کے شائننگ انڈیا دعوے عالمی تجزیے میں بے نقاب

اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

امریکی جریدے فارن افیئرز نے اپنے تازہ تجزیے میں کہا ہے کہ بھارت کا خود کو امریکا کا ایک مضبوط ’’اسٹریٹجک ستون‘‘ قرار دینے کا دعویٰ حالیہ واقعات کے بعد کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔

جریدے کے مطابق مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کے بعد واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات اپنی تاریخ کے شدید ترین تناؤ سے گزر رہے ہیں۔

فارن افیئرز کے مطابق جنگ بندی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو پاکستان نے کھلے دل سے سراہا، جبکہ بھارت نے امریکی ثالثی کو مسترد کیا۔ امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کی سفارتی اور عسکری کامیابیوں کا بار بار ذکر اور پاکستانی قیادت کے ساتھ مثبت روابط بھارت کے لیے سفارتی سطح پر سبکی کا باعث بنے۔

جریدے کے مطابق امریکی صدر نے بھارت کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے پر دستخط سے انکار کیا اور بھارتی برآمدات پر اضافی محصولات عائد کیے، جس سے دوطرفہ تعلقات مزید متاثر ہوئے۔

مزید پڑھیں

مودی کے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت میں تیزی، واقعات میں 13 فیصد اضافہ

امریکی ٹیرف اور تجارتی معاہدے کی ناکامی، مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات

مودی راج میں اقلیتوں پر جبر؟ پراکاش راج کے سنگین الزامات سامنے آ گئے

فارن افیئرز کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باعث امریکا میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ بھارت ایک قابلِ اعتماد اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت معمولی سفارتی اختلافات پر امریکا سے دوری اختیار کرتا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ایک پراعتماد اور مستحکم شراکت دار نہیں۔ ان کے مطابق پچیس سالہ تعلقات کا صرف انا اور بیانیے کے دباؤ پر متزلزل ہونا اس شراکت داری کی ادارہ جاتی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ پاک بھارت جنگ بندی درحقیقت بھارتی درخواست پر امریکی مداخلت سے ممکن ہوئی، تاہم بھارت داخلی سیاسی وجوہات کی بنا پر اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ امریکی ثالثی نہیں بلکہ بیانیے پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنے کی بھارتی خواہش ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت ایک طرف امریکی ثالثی کو مسترد کرتا ہے جبکہ دوسری جانب چین کے مقابلے میں امریکا سے غیر مشروط حمایت کا خواہاں ہے، جو ایک واضح تضاد ہے۔ ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام دوہرے معیار کے بجائے برابری اور حقیقت پسندانہ سفارتی تعلقات سے ہی ممکن ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہ بھارت کے مطابق

پڑھیں:

ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں

تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ بخیتار سیدوف کو پیش کردیں۔

مدثر ٹیپو کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے اعزاز ہے کہ انہوں نے وزیرخارجہ سے ملاقات میں یہ اسناد پیش کیں۔

ازبک وزیر خارجہ بختیار سیدوف کا کہنا تھا کہ ملاقات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن