ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے بورڈ آف پیس میں وزیراعظم پاکستان کو شمولیت کی دعوت دے دی
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ سے متعلق قائم کیے جانے والے بورڈ آف پیس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو شامل ہونے کی دعوت دے دی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان کو غزہ کے حوالے سے بنائے گئے اس امن بورڈ میں شمولیت کی باقاعدہ پیشکش موصول ہو چکی ہے۔
????PR No.2️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Press Remarks by the Spokesperson https://t.
????⬇️ pic.twitter.com/9SetjLwP1V
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) January 18, 2026
ترجمان کے مطابق پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے عالمی سطح پر ہونے والی کوششوں میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا اور غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی برادری سے مسلسل رابطے میں رہے گا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کا دیرپا اور منصفانہ حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں مستقل امن کے لیے سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت غزہ کے لیے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ یہ بورڈ سکیورٹی، انسانی امداد اور تعمیر نو کے اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ فلسطینی اتھارٹی اور حکومتی ڈھانچے میں اصلاحات کو فروغ دینے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے غزہ بورڈ کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ اقدام اسرائیلی حکومتی پالیسی کے منافی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بورڈ کی تشکیل کے معاملے پر اسرائیل سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی وزیر خارجہ گڈیون سار اس معاملے کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے سامنے اٹھائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شہباز شریف غزہ بورڈ آف پیس وزیراعظم پاکستان وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شہباز شریف غزہ بورڈ ا ف پیس وزیراعظم پاکستان وی نیوز
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔