پاکستانی معدنیات کی ریاض میں زبردست پذیرائی، علی پرویز کی بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
ریاض :(ویب ڈیسک)سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقدہ فیوچر منرلز فورم کے دوران پاکستانی معدنی اور توانائی کے شعبے کو غیرمعمولی عالمی توجہ اور پذیرائی حاصل ہوئی، جہاں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے پاکستان کے وسیع معدنی وسائل، سرمایہ کاری کے مواقع اور اصلاحاتی اقدامات کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ اس موقع پر علی پرویز ملک نے سعودی عرب کے وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان سے ملاقات کی جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان توانائی تعاون بڑھانے، نالج ایکسچینج اور تکنیکی اشتراک پر اتفاق کیا گیا۔ سعودی وزیرِ توانائی نے پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔
علی پرویز ملک کی سعودی وزیرِ سرمایہ کاری خالد الفالح سے بھی اہم ملاقات ہوئی جس میں معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات، مشترکہ منصوبوں اور نجی شعبے کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
فیوچر منرلز فورم میں خطاب کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان معدنیات کے میدان میں ایک ابھرتی ہوئی عالمی منزل بن رہا ہے اور دنیا بھر کے سرمایہ کار پاکستان کے معدنی وسائل میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔ عالمی میڈیا کی نمائندہ اور سی این این کی اینکر ایلینی گیوکوس نے بھی پاکستان کے معدنی شعبے کو عالمی توجہ کا مرکز قرار دیا۔
عالمی وزراء کے پینل میں پاکستان کے معدنی وژن کو بھرپور سراہا گیا جبکہ علی پرویز ملک نے واضح کیا کہ حکومت پاکستان معدنی شعبے میں ضوابط کو آسان بنا رہی ہے تاکہ غیرملکی اور مقامی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ریکوڈک محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان میں جدید، شفاف اور پائیدار کان کنی کا نیا معیار ہے۔ اس دوران علی پرویز ملک کی انٹرنیشنل انرجی فورم، میٹسو کارپوریشن اور سعودی ایکزم بینک کی ٹیموں سے بھی اہم ملاقاتیں ہوئیں جن میں تعاون اور سرمایہ کاری کے امکانات پر گفتگو کی گئی۔
وفاقی وزیر نے عالمی سرمایہ کاروں کو اپریل 2026 میں پاکستان میں ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت دی۔ فورم میں قائم پاکستان پویلین “پاکستان، دی منرل مارول” شرکاء کی توجہ کا مرکز رہا جہاں نیشنل منرلز ڈیٹا سینٹر کی جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سہولیات کو عالمی سطح پر پیش کیا گیا، جس سے پاکستان کے معدنی شعبے کی شفافیت اور استعداد کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان کے معدنی علی پرویز ملک نے سرمایہ کاری کیا گیا
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔