علی پرویز سے سعودی وزرا کی ملاقاتیں، توانائی، معدنی تعاون بڑھانے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے عالمی سٹیک ہولڈرز کو اپریل 2026ء میں منعقد ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے اس فورم کو سرمایہ کاری، تعاون اور پالیسی مکالمے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ریاض میں منعقدہ فیوچر منرلز فورم (ایف ایم ایف) میں گفتگو کے دوران کیا۔وفاقی وزیر نے فورم میں پاکستان کی نمائندگی کی جہاں انہوں نے اعلیٰ سطحی مباحثے میں شرکت کرتے ہوئے دنیا کے سامنے پاکستان کے بے پناہ معدنی وسائل کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ ایف ایم ایف کے موقع پر وفاقی وزیر نے متعدد اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقاتیں کیں جن میں سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان آل سعود سے ملاقات شامل تھی۔ ملاقات میں توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیاجس میں پٹرولیم کی فراہمی، قابلِ تجدید توانائی، توانائی کی افادیت اور سرمایہ کاری کے مواقع شامل تھے۔ وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے سعودی عرب کے وزیر سرمایہ کاری انجینئر خالد الفالح سے بھی ملاقات کی جس میں پاکستان کے توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے بہاؤ میں اضافے اور شراکت داریوں کو سہل بنانے پر گفتگو ہوئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے انٹرنیشنل انرجی فورم کے سیکرٹری جنرل جاسم الشیراوی، میٹسو کارپوریشن کے سی ای او سامی ٹکالوما، ڈیلٹا آئل کے چیئرمین بدر العیبان، سعودی ایگزم بنک کے سی ای او انجینئر سعد الخالب سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران باہمی تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے ایک نمایاں وزارتی پینل میں شرکت کی جس کا عنوان ’’ایک عالمی مقصد کا آغاز معدنیات کی فراہمی کو فروغ دینے میں حکومتوں کا کردار ‘‘ تھا جس کی میزبانی برطانوی اینکر اور نامہ نگار ایلینی جیوکوس نے کی۔ اس پینل میں سعودی عرب کے وزیر صنعت و معدنی وسائل بندر الخریّف، مراکش کی وزیر برائے توانائی منتقلی و پائیدار ترقی لیلیٰ بن علی، موریطانیہ کے وزیر کان کنی و صنعت تیام تدجانی، چلی کی وزیرِ کان کنی اورورا ولیمز باؤسا اور کینیڈا کی وزارتِ توانائی و قدرتی وسائل کے پارلیمانی سیکرٹری کلاڈ گوئے شامل تھے۔ ایلینی جیوکوس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں موجود بے پناہ صلاحیت کے باعث دنیا پاکستان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے تاکہ معدنی وسائل حاصل کیے جا سکیں جو بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔ فیوچر منرلز فورم میں پاکستان کی موجودگی کو پاکستان پویلین کے ذریعے مزید تقویت ملی جس کا عنوان ’’ پاکستان دی منرل مارویل‘‘ تھا ۔ اس پویلین میں نیشنل منرلز ڈیٹا سینٹر (این ایم ڈی سی) کے لائیو ڈیمونسٹریشنز پیش کی گئیں جو پاکستان کے معدنی شعبے کی جدید کاری میں مرکزی حیثیت رکھنے والا ایک جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔ شرکاء نے جدید انٹرایکٹو نمائشوں میں گہری دلچسپی لی جن میں تھری ڈی جیولوجیکل ماڈلنگ، ہائی ریزولوشن جی آئی ایس میپنگ، اور پاکستان کے معدنی وسائل سے مالا مال علاقوں کی ریئل ٹائم ڈیٹا ویڑولائزیشن شامل تھی۔ پاکستان نے اپنے معدنی وسائل پر مبنی 90 منٹ پر مشتمل کنٹری شوکیس سیشن بھی منعقد کیا جس میں بڑی تعداد میں شرکاء نے شرکت کی۔ پاکستان کے سٹریٹجک وژن کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کاروبار کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور حکومتِ پاکستان سرمایہ کاروں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے، اس موقع پر معدنی وسائل کے نائب وزیر عبدالرحمن البلوشی بھی موجود تھے۔ فیوچر منرلز فورم میں پاکستان کی فعال شرکت نے ذمہ دارانہ معدنی ترقی، عالمی تعاون اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کے لیے حکومتِ پاکستان کے عزم کی توثیق کی اور پاکستان کو مستقبل کی عالمی معدنی ضروریات پوری کرنے میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: میں پاکستان سرمایہ کاری پاکستان کے وفاقی وزیر فورم میں کے وزیر
پڑھیں:
ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیاازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ بخیتار سیدوف کو پیش کردیں۔
مدثر ٹیپو کا کہنا تھا کہ یہ ان کے لیے اعزاز ہے کہ انہوں نے وزیرخارجہ سے ملاقات میں یہ اسناد پیش کیں۔
ازبک وزیر خارجہ بختیار سیدوف کا کہنا تھا کہ ملاقات میں مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔