ڈی آئی خان: قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی، ایک دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سی ٹی ڈی، ضلعی پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز نے مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران ایک دہشتگرد کو ہلاک کردیا۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا: بھارتی سرپرستی یافتہ 11 خوارج ہلاک، انسداد دہشتگردی کارروائیاں جاری
سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشتگرد کا تعلق ٹی ٹی پی گنڈاپور گروپ سے تھا اور یہ پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں بھی ملوث تھا۔
دہشتگردوں کی فائرنگ کے بعد سی ٹی ڈی اور فورسز کی جوابی کارروائی میں دہشتگرد مارا گیا۔ جبکہ اس کے قبضے سے ایس ایم جی اور متعدد کارتوس برآمد ہوئے، جبکہ دیگر ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، علاقے میں کلیئرنس آپریشن ابھی جاری ہے۔
آئی جی خیبر پختونخوا نے سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہا اور آپریشنز کو مزید تیز کرنے کا اعلان کیا۔
دوسری جانب ڈی آئی خان کے علاقے کوہاٹ نصرت خیل کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پولیس اے ایس آئی شہید ہوگیا۔
پولیس کے مطابق اے ایس آئی مصدق حسین پر فائرنگ کی گئی اور نامعلوم ملزمان فرار ہو گئے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا کو افغان سرحد کے راستے بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی کے خطرات درپیش ہیں، فیصل کریم کنڈی
اے ایس آئی مصدق حسین کوہاٹ کے خادی زئی علاقے کے رہائشی تھے، پولیس نے ان کی لاش قبضے میں لے کر اسپتال منتقل کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews دہشتگرد ہلاک ڈی آئی خان مشترکہ کارروائی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دہشتگرد ہلاک ڈی ا ئی خان مشترکہ کارروائی وی نیوز سی ٹی ڈی
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔