زمین پر قبضے کے معاملے پر جامعہ کراچی انتظامیہ کی صوبائی حکومت سے مدد کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
جامعہ کراچی کی قیمتی اراضی پر غیر قانونی قبضے اور پیٹرول پمپ کی تعمیر کا معاملہ سنگین صورت اختیار کرگیا ہے جبکہ صوبائی حکام کی جانب سے تاحال مؤثر کارروائی نہ ہونے پر یونیورسٹی آف کراچی میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
جامعہ کراچی کے رجسٹرار ڈاکٹر عمران کی جانب سے سیکریٹری بورڈز و جامعات عباس بلوچ نے، حکومتِ سندھ کو ارسال کردہ ایک تازہ خط میں واضح کیا ہے کہ 25 ستمبر 2025ء کو بھی جامعہ کراچی کی زمین پر قبضے کے معاملے کی نشاندہی کی گئی تھی، تاہم یقین دہانیوں کے باوجود نہ کوئی باضابطہ جواب موصول ہوا اور نہ ہی عملی پیشرفت سامنے آئی۔
خط میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی کی زمین پر ناجائز قبضے اور غیر قانونی تعمیرات نہ صرف ادارے کے انتظامی معاملات میں مداخلت ہے بلکہ یہ جامعہ کی سلامتی، خودمختاری اور تعلیمی ماحول کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکی ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق یہ صورتحال قانون کی عمل داری اور سرکاری اداروں کی ساکھ پر بھی ایک کھلا سوالیہ نشان ہے۔
جامعہ کراچی نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری انتظامی اور قانونی مدد فراہم کی جائے تاکہ غیر قانونی قبضوں کے خلاف کارروائی شروع کر کے انہیں منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔
مراسلے کے مطابق یہ خط وائس چانسلر کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے۔
جامعہ کراچی کی سنڈیکٹ کے رکن اور انجمن اساتذہ کے سابق صدر ڈاکٹر محسن نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر جامعہ کراچی جیسے بڑے قومی ادارے کی زمین محفوظ نہیں تو یہ صورتحال پورے صوبے میں تعلیمی اداروں کے مستقبل کے لیے خطرناک مثال بن سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جامعہ کراچی
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.