چلی کے جنگل میں بھڑکنے والی آگ کے باعث 20 ہزار افراد کی نقل مکانی ،ایمرجنسی نافذ
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سانٹیاگو: جنوبی امریکی ملک چلی کے جنگل میں بھڑکنے والی آگ کے باعث 20 ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔ صورتحال سنگین ہونے حکومت نے ملک کے جنوبی حصوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چلی کے صدر گیبریل بورک نے اتوار کی صبح جنوبی علاقوں نیوبلے اور بائیو بائیو میں اسٹیٹ آف کیٹاسٹروفی (ایمرجنسی) نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ جنگلات میں لگی آگ کے بے قابو ہونے کے بعد کیا گیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد اپنے گھروں کو خالی کر چکے ہیں۔
چلی کی سرکاری جنگلاتی ایجنسی ’کوناف‘ کے مطابق اتوار کی صبح تک ملک بھر میں 24 مقامات پر آگ لگی ہوئی تھی، جن میں سب سے شدید آگ نیوبلے اور بائیو بائیو کے علاقوں میں ہے۔ یہ دونوں علاقے دارالحکومت سانتیاگو سے تقریباً 500 کلومیٹر جنوب میں واقع ہیں۔
چلی کے صدر گیبریل بورک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ شدید آگ کے پیش نظر نیوبلے اور بائیو بائیو میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے اور تمام دستیاب وسائل استعمال میں لائے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق اب تک دونوں علاقوں میں تقریباً 8 ہزار 500 ہیکٹر رقبہ آگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جس کے باعث متعدد آبادیوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور مختلف علاقوں میں انخلا کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
چلی کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے ’سینی پریڈ‘ کا کہنا ہے کہ تقریباً 20 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ کم از کم 250 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چلی کے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
19 جولائی سے خیبرپختونخوا میں ہونے والی شدید بارشوں اور فلیش فلڈ کے نتیجے میں مختلف حادثات میں اب تک 28 افراد جاں بحق جبکہ 29 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 10 مرد، 3 خواتین اور 15 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، 9 خواتین اور 7 بچے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں 19 سے 23 جولائی تک شدید بارشوں کا الرٹ، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ کا خدشہ
زیادہ تر حادثات گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے یا سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے باعث پیش آئے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں اور فیلش فلڈ سے مجموعی طور پر 47 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 37 گھروں کو جزوی جبکہ 10 گھر مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔
Heavy monsoon rains triggered dangerous flash floods in Khyber District, KP, sweeping away a vehicle. Thanks to the quick action of local residents, the driver was rescued safely.#FlashFlood #Khyber #Pakistan #Monsoon2026 #ClimateAction #StaySafe pic.twitter.com/QoeeY8x1if
— MH ClimateActions (@mhclimateaction) July 23, 2026
یہ حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، اپر و لوئر چترال، اپر و لوئر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، اپر کوہستان، ٹانک، تورغر، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سمیت مختلف اضلاع میں پیش آئے۔
ترجمان کے مطابق پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے باہمی رابطے میں ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں موسلادھار بارشوں سے تباہی، 12 افراد جاں بحق، 18 زخمی
پی ڈی ایم اے نے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین تک امدادی سامان کی فوری فراہمی اور امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور موسمی صورتحال کے حوالے سے جاری سرکاری الرٹس اور ایڈوائزریز پر سختی سے عمل کریں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ادارے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگاہی یا دیگر معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمرجنسی آپریشن سینٹر بارش پی ڈی ایم اے حساس خیبر پختونخوا ریسکیو 1122 سیاحتی مقامات سیلاب سیلابی ریلوں فعال فیلش فلڈ موسمی صورتحال