data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سانٹیاگو: جنوبی امریکی ملک چلی کے جنگل میں بھڑکنے والی آگ کے باعث 20 ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔ صورتحال سنگین ہونے حکومت نے ملک کے جنوبی حصوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چلی کے صدر گیبریل بورک نے اتوار کی صبح جنوبی علاقوں نیوبلے اور بائیو بائیو میں اسٹیٹ آف کیٹاسٹروفی (ایمرجنسی) نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ جنگلات میں لگی آگ کے بے قابو ہونے کے بعد کیا گیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد اپنے گھروں کو خالی کر چکے ہیں۔

چلی کی سرکاری جنگلاتی ایجنسی ’کوناف‘ کے مطابق اتوار کی صبح تک ملک بھر میں 24 مقامات پر آگ لگی ہوئی تھی، جن میں سب سے شدید آگ نیوبلے اور بائیو بائیو کے علاقوں میں ہے۔ یہ دونوں علاقے دارالحکومت سانتیاگو سے تقریباً 500 کلومیٹر جنوب میں واقع ہیں۔

چلی کے صدر گیبریل بورک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ شدید آگ کے پیش نظر نیوبلے اور بائیو بائیو میں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے اور تمام دستیاب وسائل استعمال میں لائے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق اب تک دونوں علاقوں میں تقریباً 8 ہزار 500 ہیکٹر رقبہ آگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جس کے باعث متعدد آبادیوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور مختلف علاقوں میں انخلا کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

چلی کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے ’سینی پریڈ‘ کا کہنا ہے کہ تقریباً 20 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ کم از کم 250 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔

عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چلی کے

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود