مرتضیٰ وہاب کے22 گھنٹے بعد گُل پلازاپہنچنے پر احتجاج، میئر کراچی ”نامنظور“ کے نعرے
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب 22 گھنٹے بعد گل پلازہ پہنچے تو تاجروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا گیا۔اس موقع پر احتجاج کرتے ہوئے میئر کراچی کے خلاف نعرے بازی کی اور سوال کیا کہ 22 گھنٹے بعد کیوں آئے ہو، آپ بس ای چالان لے لو 10 ہزار روپے کا۔
کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد میئر کراچی مرتضیٰ وہاب تقریباً 22 گھنٹے بعد موقع پر پہنچے، جس پر تاجروں نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا۔اس موقع پرتاجروں نے سوال اٹھایا کہ 22 گھنٹے بعد آنے کا کیا جواز ہے اور کہا کہ ہم ٹیکس دہندگان ہیں، ایسا رویہ قابل قبول نہیں۔ احتجاج کے دوران تاجروں نے کہا کہ 22 گھنٹے بعد آئے ہو بھائی، ایسا کہاں ہوتا ہے۔
بعض تاجروں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ آپ بس ای چالان لے لو 10 ہزار روپے کا۔ اس موقع پر ”نامنظور، نامنظور“ اور ”میئر کراچی نامنظور“ کے نعرے بھی لگائے گئے۔احتجاج کے دوران بعض افراد کی جانب سے میئر کراچی کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے سخت جملے بھی کہے گئے۔
https://img.
دوسری جانب میئر کراچی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ گل پلازہ میں 65 افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے، دعا ہے اللہ تعالیٰ محصور افراد کو ہمت دے اور انہیں بحفاظت نکالا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میئر کراچی تاجروں نے گھنٹے بعد کہا کہ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔