data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب 22 گھنٹے بعد گل پلازہ پہنچے تو تاجروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا گیا۔اس موقع پر احتجاج کرتے ہوئے میئر کراچی کے خلاف نعرے بازی کی اور سوال کیا کہ 22 گھنٹے بعد کیوں آئے ہو، آپ بس ای چالان لے لو 10 ہزار روپے کا۔

کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد میئر کراچی مرتضیٰ وہاب تقریباً 22 گھنٹے بعد موقع پر پہنچے، جس پر تاجروں نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کیا۔اس موقع پرتاجروں نے سوال اٹھایا کہ 22 گھنٹے بعد آنے کا کیا جواز ہے اور کہا کہ ہم ٹیکس دہندگان ہیں، ایسا رویہ قابل قبول نہیں۔ احتجاج کے دوران تاجروں نے کہا کہ 22 گھنٹے بعد آئے ہو بھائی، ایسا کہاں ہوتا ہے۔

بعض تاجروں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ آپ بس ای چالان لے لو 10 ہزار روپے کا۔ اس موقع پر ”نامنظور، نامنظور“ اور ”میئر کراچی نامنظور“ کے نعرے بھی لگائے گئے۔احتجاج کے دوران بعض افراد کی جانب سے میئر کراچی کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے سخت جملے بھی کہے گئے۔
https://img.

express.pk/media/videos/WhatsApp%20Video%202026-01-18%20at%2010-02-16%20PM.mp4

دوسری جانب میئر کراچی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ گل پلازہ میں 65 افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے، دعا ہے اللہ تعالیٰ محصور افراد کو ہمت دے اور انہیں بحفاظت نکالا جائے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میئر کراچی تاجروں نے گھنٹے بعد کہا کہ

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا