کراچی آتشزدگی: مرتضیٰ وہاب 23 گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، تاجروں کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب تقریباً 23 گھنٹے کی تاخیر سے جائے حادثہ پر پہنچے، جہاں ان کی آمد پر متاثرہ تاجروں نے شدید احتجاج کیا۔
گل پلازہ میں آگ لگنے کا واقعہ گزشتہ شب 9 بج کر 45 منٹ سے 10 بج کر 15 منٹ کے دوران پیش آیا، جس کے نتیجے میں 1200 سے زائد دکانیں جل کر خاکستر ہوگئیں۔
کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب صدیقی کا گل پلازہ کادورہ pic.
— Hashmi (@hashmi87056649) January 18, 2026
فائر بریگیڈ حکام کے مطابق طویل امدادی کارروائی کے بعد آگ پر 60 سے 70 فیصد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ تاہم واقعے کے کئی گھنٹے بعد میئر کراچی کی آمد پر تاجروں نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔
واضح رہے کہ میئر کراچی سے قبل وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور گورنر سندھ موقع پر پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لے چکے تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت کی اور مالی نقصان پر بھی دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے آگ بجھانے کے دوران شہید ہونے والے فائر فائٹر کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
مزید پڑھیں: کراچی: گل پلازہ میں لگنے والی آگ دوسرے روز بھی بے قابو، 6 افراد جاں بحق، 58 لاپتا، عمارت کے 2 حصے منہدم
دوسری جانب ٹریفک پولیس کے مطابق آتشزدگی کے بعد ایم اے جناح روڈ پر تبت سینٹر سے گارڈن چوک تک ٹریفک بند کر دی گئی ہے، جبکہ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متبادل راستے استعمال کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews کراچی آتشزدگی مرتضیٰ وہاب میئر کراچی وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کراچی ا تشزدگی مرتضی وہاب میئر کراچی وی نیوز میئر کراچی گل پلازہ
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔