کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں گزشتہ شب شدید آتشزدگی کے نتیجے میں فائر فائٹر فرقان علی سمیت چھ افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ 30 سے زائد افراد زخمی ہیں، جن میں سے 11 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ آگ کی شدت سے عمارت میں دراڑیں پڑ گئی ہیں اور ایک حصہ منہدم ہو چکا ہے۔ ریسکیو 1122 سندھ کے مطابق عمارت پر 77 فیصد قابو حاصل کیا جا چکا ہے۔ جاں بحق افراد میں 40 سالہ کاشف، 55 سالہ فراز، 30 سالہ عامر، 28 سالہ عامر اور ایک نامعلوم شخص شامل ہیں۔ شہید فائر فائٹر فرقان علی نے ریسکیو آپریشن کے دوران اپنی جان قربان کی۔ فرقان علی کی شادی چند سال قبل ہوئی تھی اور ان کا سات سالہ بیٹا ہے۔ حکام اور متعلقہ اداروں نے اہلِ خانہ کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ گل پلازہ ایک پرانی اور مخدوش تین منزلہ عمارت ہے، جس میں تقریباً 1200 دکانیں موجود تھیں۔ گراؤنڈ اور میزنائن فلور مکمل طور پر جل چکے ہیں جبکہ بالائی منزلیں بھی متاثر ہو چکی ہیں۔ عمارت میں کپڑے، کراکری، پرفیوم، میک اپ، الیکٹرانکس اور کھلونے سمیت متعدد دکانیں موجود تھیں۔ آگ لگنے کے بعد عمارت کی ستونیں کمزور ہو چکی ہیں اور ایک حصہ زمین بوس ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ ریسکیو 1122 اور کے ایم سی کی گاڑیاں فوری طور پر روانہ ہوئیں اور تقریباً 22 فائر ٹینڈرز اور 4 اسنارکلز آگ بجھانے اور پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ سندھ رینجرز اور پاک بحریہ بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔ عمارت میں کھڑکیاں بند اور ہوا کا راستہ نہ ہونے کی وجہ سے شدید دھواں رہا، جس سے ریسکیو ٹیم کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کے مطابق کولنگ کا عمل 3 سے 4 دن تک جاری رہے گا۔ امدادی عملے نے بتایا کہ عمارت کا پچھلا حصہ منہدم ہوچکا ہے اور آگ کے آخری چنگاری تک قابو پانے کی کوشش جاری ہے۔ انسانی جانوں کا تحفظ اور آگ کے مزید پھیلنے کو روکنا اولین ترجیح ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کی تحقیقات کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جاں بحق افراد کے خاندانوں سے تعزیت کی اور تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت دی۔ گل پلازہ کی آگ کے بعد تقریباً 23 گھنٹے بعد میئر کراچی موقع پر پہنچے، تو وہاں موجود تاجروں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے "استعفیٰ دو" کے نعرے بلند کیے۔ تاجروں کا مطالبہ تھا کہ وہ حکام کی غفلت اور دیر سے امدادی کارروائی پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟