کراچی کا دل دہلا دینے والا واقعہ: آگ، نقصان اور امدادی کارروائی، جانیے تفصیل"
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں گزشتہ شب شدید آتشزدگی کے نتیجے میں فائر فائٹر فرقان علی سمیت چھ افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ 30 سے زائد افراد زخمی ہیں، جن میں سے 11 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ آگ کی شدت سے عمارت میں دراڑیں پڑ گئی ہیں اور ایک حصہ منہدم ہو چکا ہے۔ ریسکیو 1122 سندھ کے مطابق عمارت پر 77 فیصد قابو حاصل کیا جا چکا ہے۔ جاں بحق افراد میں 40 سالہ کاشف، 55 سالہ فراز، 30 سالہ عامر، 28 سالہ عامر اور ایک نامعلوم شخص شامل ہیں۔ شہید فائر فائٹر فرقان علی نے ریسکیو آپریشن کے دوران اپنی جان قربان کی۔ فرقان علی کی شادی چند سال قبل ہوئی تھی اور ان کا سات سالہ بیٹا ہے۔ حکام اور متعلقہ اداروں نے اہلِ خانہ کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ گل پلازہ ایک پرانی اور مخدوش تین منزلہ عمارت ہے، جس میں تقریباً 1200 دکانیں موجود تھیں۔ گراؤنڈ اور میزنائن فلور مکمل طور پر جل چکے ہیں جبکہ بالائی منزلیں بھی متاثر ہو چکی ہیں۔ عمارت میں کپڑے، کراکری، پرفیوم، میک اپ، الیکٹرانکس اور کھلونے سمیت متعدد دکانیں موجود تھیں۔ آگ لگنے کے بعد عمارت کی ستونیں کمزور ہو چکی ہیں اور ایک حصہ زمین بوس ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ ریسکیو 1122 اور کے ایم سی کی گاڑیاں فوری طور پر روانہ ہوئیں اور تقریباً 22 فائر ٹینڈرز اور 4 اسنارکلز آگ بجھانے اور پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ سندھ رینجرز اور پاک بحریہ بھی امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہیں۔ عمارت میں کھڑکیاں بند اور ہوا کا راستہ نہ ہونے کی وجہ سے شدید دھواں رہا، جس سے ریسکیو ٹیم کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کے مطابق کولنگ کا عمل 3 سے 4 دن تک جاری رہے گا۔ امدادی عملے نے بتایا کہ عمارت کا پچھلا حصہ منہدم ہوچکا ہے اور آگ کے آخری چنگاری تک قابو پانے کی کوشش جاری ہے۔ انسانی جانوں کا تحفظ اور آگ کے مزید پھیلنے کو روکنا اولین ترجیح ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کی تحقیقات کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جاں بحق افراد کے خاندانوں سے تعزیت کی اور تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت دی۔ گل پلازہ کی آگ کے بعد تقریباً 23 گھنٹے بعد میئر کراچی موقع پر پہنچے، تو وہاں موجود تاجروں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے "استعفیٰ دو" کے نعرے بلند کیے۔ تاجروں کا مطالبہ تھا کہ وہ حکام کی غفلت اور دیر سے امدادی کارروائی پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک بھارتی طالبہ اپنی ہی حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کرتی نظر آ رہی ہے۔ ویڈیو میں طالبہ کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور کے دوران پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بھارتی رافیل طیارے گرائے اور بھارتی فوجیوں کو بھی مارا ہے تاہم اس وقت بھارتی حکومت نے ان تمام دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔
Array koi baat nahi it's ok pic.twitter.com/ZwimtIcx4a
— iffi (@iffiViews) July 22, 2026
طالبہ ویڈیو میں کہتی ہے کہ اب اگر ایک سال بعد حکومت خود یہ تسلیم کر رہی ہے کہ اس دوران چھ بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے تو اس سے عالمی سطح پر یہی تاثر جائے گا کہ پاکستان کے دعوے درست تھے۔ اس صورتحال نے بھارتی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے آخر میں وہ یہ بھی کہتی ہے کہ اس کے بعد پاکستان کے سامنے بھی ہماری عزت نہیں رہی۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے دیگر دعوے بھی درست تھے جبکہ کچھ صارفین نے بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے حقائق چھپانے اور متضاد بیانات دینے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین آرمی بھارتی طیارے پاک آرمی پاک فوج پاکستانی فوج رافیل ویڈیو وائرل