تحریک تحفظ آئین پاکستان کا عوامی مینڈیٹ چھیننے والوں کیخلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی : تحریک تحفظ آئین پاکستان نے ملک میں سیاسی، آئینی اور معاشی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے غیرجانبدار الیکشن کمیشن کے قیام اور صاف و شفاف انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبات کراچی پریس کلب میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے بعد جاری کیے گئے اعلامیے میں سامنے آئے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عوامی مینڈیٹ سے محروم کرنے والوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے۔ اپوزیشن اتحاد کے مطابق سندھ حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے، جبکہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے میڈیا کی آزادی کو محدود کیا گیا ہے۔
کانفرنس کے شرکا نے ججوں کے جبری تبادلوں کی مذمت کرتے ہوئے سیاسی قیدیوں، بشمول عمران خان اور بشریٰ بی بی، کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ اعلامیے میں عمران خان سے ملاقات پر عائد پابندی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
تحریک تحفظ آئین پاکستان نے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات کو جھوٹا قرار دیا، جبکہ صحافیوں کے حقوق کے حوالے سے پیکا ایکٹ کو کالعدم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اعلامیے میں صحافی مطیع اللہ جان، وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر کے خلاف مقدمات کی بھی مذمت کی گئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ملک میں معاشی عدم استحکام کی بنیادی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے، جس کے باعث ملٹی نیشنل ادارے پاکستان چھوڑنے کے قریب ہیں۔ سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیوں کے خاتمے، خیبرپختونخوا میں جرگے کے فیصلوں پر عملدرآمد اور فوجی آپریشن روکنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
تحریک نے واضح کیا کہ آئین کے تحت معدنی وسائل صوبوں کی ملکیت ہیں اور پانی کی تقسیم 1991 کے معاہدے کے مطابق ہونی چاہیے۔ علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایران سمیت خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر حکومت ہمسایہ ممالک کا اجلاس بلائے، جبکہ غزہ کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے۔
اعلامیے کے اختتام پر اپوزیشن اتحاد نے اعلان کیا کہ 8 فروری کو ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ، پہیہ جام ہڑتال ہوگی اور یومِ سیاہ منایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اعلامیے میں مطالبہ کیا کا مطالبہ کیا گیا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔