کراچی کے تجارتی مراکز ’’بارود کے ڈھیر‘‘ ہیں، فائرآفیسر
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر) شہر قائد کے سیکڑوں بڑے بازار، شاپنگ سینٹرز اور بلند و بالا پلازے انسانی زندگیوں کے لیے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔ فائر آفیسر ہمایوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فائر بریگیڈ حکام کی تحقیقاتی رپورٹ نے کراچی کے کاروباری مراکز میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات کی قلعی کھول دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی بیشتر بلند عمارتوں میں
اسٹینڈرڈ فائر سیفٹی کا سرے سے کوئی تصور ہی موجود نہیں، کراچی کے بڑے بازاروں میں روزانہ اربوں روپے کا لین دین ہوتا ہے، مگر مالکان اور انتظامیہ فائر سیفٹی بجٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ان خطرناک اور غیر محفوظ عمارتوں میں روزانہ 34 ہزار سے زاید ملازمین اور مزدور کام کرنے پر مجبور ہیں، جن کی زندگی کسی بھی وقت شارٹ سرکٹ یا آگ لگنے کی صورت میں داؤ پر لگ سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق بیشتر پلازوں میں آگ بجھانے کے آلات (Fire Extinguishers) تو دور کی بات، ہنگامی اخراج کے راستے بھی بند کر کے وہاں گودام بنا دیے گئے ہیں۔ بجلی کی وائرنگ کا غیر معیاری ہونا اور اسٹینڈ پائپ سسٹم کا فعال نہ ہونا کسی بھی بڑے حادثے کی صورت میں فائر فائٹرز کے کام میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔کراچی میں دسمبر 2023 اور حال ہی میں یکم اکتوبر 2025 کو فائر سیفٹی آڈٹ کیے گئے، لیکن ان کی سفارشات پر عملدرآمد تاحال صفر ہے۔ 2023 کے آڈٹ میں 45 اہم عمارتوں کے معائنے کے دوران 29 عمارتوں کو حفاظتی نقطہ نظر سے غیر تسلی بخش قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 77 فیصد عمارتوں میں سرے سے فائر فائٹنگ کا سامان ہی موجود نہیں۔ حیرت انگیز طور پر شہر کی کسی بھی بڑی تجارتی عمارت کے پاس مکمل ’فائر سیفٹی سرٹیفیکیشن‘ موجود نہیں۔ گل پلازہ کا واقعہ ایک وارننگ ہے، اگر انتظامیہ اور تاجر برادری نے فائر آفیسر کی ان سفارشات پر عمل نہ کیا تو کراچی کے دیگر گنجان آباد بازار بھی اسی طرح کی تباہی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فائر سیفٹی کراچی کے
پڑھیں:
نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔
اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔
مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔
فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔
قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے ورلڈ سمر اسپیشل گیمز تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔