کراچی: گل پلازا میں ہنگامی اخراج کا راستہ تھا نہ ہی آگ سے نمٹنے کے انتظامات تھے، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2026 GMT
کراچی کے مصروف ترین ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازا کی عمارت کا بڑا حصہ گر گیا، عمارت میں ہنگامی اخراج کی جگہ نہیں تھی اور نہ ہی آگ سے نمٹنے کے لیے انتظامات تھے۔
گل پلازا میں لگنےوالی آگ سے متعلق متعلقہ حکام کی رپورٹ کے نکات سامنے آگئے، جس کے مطابق 1995ء میں گل پلازا کی عمارت تعمیر ہوئی تھی، ابتدائی طور پر عمارت بیسمنٹ، گراؤنڈ اور پہلی منزل تک تھی۔
کراچی: گل پلازہ کی عمارت کا بڑا حصہ گرگیا، 6 افراد جاں بحق، تاحال آگ نہ بجھائی جا سکیسی ای او ریسکیو عابد جلالانی کا کہنا ہے کہ متاثر عمارت انتہائی مخدوش حالت میں ہے، عمارت کے عقبی حصے پہلے گر چکے تھے، اگلا حصہ ابھی گرا ہے۔
رپورٹ کے نکات میں کہا گیا کہ عمارت پر 2003ء تک مختلف اوقات میں تین فلورز تعمیر کیے گئے، عمارت میں 500 دکانوں کی گنجائش تھی، بڑی دکانوں کو چھوٹا کرکے مزید دکانیں نکالی گئیں۔
عمارت میں دکانوں کی تعداد 500 سے بڑھ کر 1200 ہوگئی تھی، عمارت میں ہنگامی اخراج کی جگہ نہیں تھی، عمارت میں آگ سے نمٹنے کے لیے انتظامات نہیں تھے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ جن کے پیارے دنیا سے چلے گئے ہیں، اُن کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
دوسری جانب گل پلازا میں لگی آگ کو 22 گھنٹے گزر گئے، آگ مکمل طور پر نہ بجھائی جا سکی، عمارت میں پھنسے لوگوں سے رابطہ ختم ہوگیا۔
شہر بھر کے فائر فائٹرز امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، شہید فائر فائٹر فرقان کی نماز جنازہ ناظم آباد فائر اسٹیشن میں ادا کر دی گئی۔
وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ سانحے میں 6 افراد کی جان گئی، 22 زخمی ہوئے اور 58 افراد لاپتہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گل پلازا
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔