انتظامی نااہلی ،5 ماہ قبل وفات پانے والے استاد کو شوکاز جاری
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میرپورخاص(نمائندہ جسارت)میرپورخاص میں تعلیم کے شعبے میں انتظامی نااہلی کی ایک حیران کن اور تشویشناک مثال سامنے آئی ہے، جہاں ڈائریکٹر تعلیم میرپورخاص کی جانب سے ایک ایسے استاد کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے جو پانچ ماہ قبل وفات پا چکا ہے تفصیلات کے مطابق ضلع تھرپارکر کے تعلقہ ڈیپلو کے گاؤں صِدھوئی کے رہائشی پرائمری اسکول ٹیچر سنتوش کمار پانچ ماہ قبل انتقال کر گئے تھے مرحوم کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہو چکا ہے، تنخواہ کا بینک اکاؤنٹ بلاک ہے اور خزانہ (ٹریزری) کو بھی تمام تر معلومات فراہم کی جا چکی ہیں۔ اس کے باوجود محکمہ تعلیم میرپورخاص کے ڈائریکٹر فقیر محمد خاصخیلی کی جانب سے مرحوم استاد کے نام پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا، جس میں انہیں اسکول میں ڈیوٹی نا دینے پر دس دن کے اندر میرپورخاص آفس میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اس واقعے نے محکمہ تعلیم کی کارکردگی اور مانیٹرنگ سسٹم پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی استاد کے تبادلے کے لیے رشوت دی جائے تو رات گئے بھی فائلیں چل پڑتی ہیں، مگر ایک انسان کے انتقال کے باوجود پانچ ماہ تک ریکارڈ اپڈیٹ نا ہونا انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ فہم ہے مزید یہ کہ محکمہ تعلیم کے مانیٹرنگ افسران جو ہر ماہ اسکولوں کے دورے کرتے ہیں، ان کی رپورٹس کہاں ارسال کی جاتی ہیں؟ اگر مانیٹرنگ کا نظام مؤثر ہوتا تو ایسا شرمناک واقعہ کبھی پیش نا آتا.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔