Jasarat News:
2026-07-24@02:34:20 GMT

وفاقی وزیرچوہدری سالک حسین کا کاٹی کے دفتر کا دورہ

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وفاقی وزیر برائے سمندرپار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل چوہدری سالک حسین، وفاقی سیکرٹری ندیم اسلم چوہدری نے گزشتہ دنوں چیئرمین ای او بی آئی ڈاکٹر جاوید اے شیخ کے ساتھ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری(کاٹی) کراچی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر کاٹی کے ڈپٹی پیٹرن ان چیف محمد زبیر چھایا نے وفاقی وزیر، وفاقی سیکرٹری اور چیئرمین ای او بی آئی کا خیر مقدم کیا۔
وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے صنعت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے اپنی وزارت کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال ملک کی افرادی قوت کی برآمد 0.

74 ملین تھی اور اس سال اسے بڑھا کر 0.80 ملین کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے ای او بی آئی کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے کہا کہ بہتر طرز حکمرانی اور شفافیت کی وجہ سے ای او بی آئی کے فنڈ کا حجم ایک ڈیڑھ برس کے دوران 500 ارب روپے سے بڑھ کر 650 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے ای او بی آئی سرمایہ کاری کے منافع کو بڑھانے، ثالثی کے ذریعہ جائیداد سے متعلق مقدمات کو حل کرنے، غیر فعال اثاثوں کو فعال کرنے، آئی ٹی سسٹمز کو اپ گریڈ کرنے، اور قانونی نوٹسوں کی ڈیجیٹلائزیشن پر توجہ مرکوز کرنے پر زور دیا۔
چوہدری سالک حسین نے صنعت کاروں کو مزید بتایا کہ ای او بی آئی سے متعلق شکایات کے فوری ازالہ کے نظام کو وزیر اعظم کے پورٹل، وفاقی محتسب اعلیٰ، اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے، جبکہ اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں آجران، بیمہ دار افراد اور پنشنرز کی سہولت کے لیے ہیلپ ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر نے ریجنل آفس کورنگی کو ہدایت کی کہ وہ رجسٹرڈ آجران سے واجب الادا کنٹری بیوشن کی ریکوری نوٹس جاری کرنے سے قبل کاٹی کی قیادت کے ساتھ رابطہ کرے، جس میں باہمی گفت و شنید اور سہولت کے ذریعے مسئلہ کے حل پر زور دیا گیا ہے۔
اس موقع پر کاٹی کے عہدیداران نے وفاقی وزیر کو ای او بی آئی کے امور میں اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور اپنی ایسوسی ایشن کے ممبران کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں کاٹی کی جانب سے ثالثی کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی۔
انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسوسی ایشن ملک کے سب سے بڑے صنعتی علاقہ کورنگی کے 5 ہزارسے زائد صنعت کار ممبران کی نمائندگی کرتی ہے اور تقریباً 1.5 ملین افراد کے لیے براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے ذرائع پیدا کرتی ہے، اور یہ صنعتی علاقہ ملک کی برآمدات میں 9.5 فیصد حصہ کا شراکت دار ہے، جو صنعتی پالیسی سازی کے معاملات میں کاٹی سے مشاورت کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔
کاٹی کے عہدیداران نے پاکستانی زرمبادلہ میں تقریباً 38 بلین امریکی ڈالر کی شراکت میں وزارت سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل کے بھرپور کردار کو بھی سراہا۔
اس موقع پر کاٹی کے عہدیداران نے بیرون ملک روزگار کے ذرائع پیدا کرنے کے لیے ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے کے عمل میں وزارت ترقی انسانی وسائل کے ساتھ تعاون کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ جس پر وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے کاٹی کے عہدیداروں کو مزید گفت و شنید کے لیے اسلام آباد میں وزارت کے دفتر کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔
اس موقع پر ای او بی آئی کے اعلیٰ افسران محمد امین ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل بینی فٹس اینڈ کنٹری بیوشن اسلام آباد، مبشر رسول ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل بینی فٹس اینڈ کنٹری بیوشن سندھ و بلوچستان،ابریز مظفر شیخ ڈائریکٹر کوآرڈنیشن برائے چیئرمین اور نوید فیاض ریجنل ہیڈ ای او بی آئی ریجنل آفس کورنگی بھی موجود تھے۔

 

اسرار ایوبی گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چوہدری سالک حسین او بی ا ئی ایسوسی ایشن وفاقی وزیر کاٹی کے کے ساتھ

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ