Express News:
2026-06-03@01:12:14 GMT

طاقت کا قانون

اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT

بظاہر ری برتھ آف مڈل ایسٹ کے لیے میدان ہموار ہو چکا ہے ۔ امریکی سامراج اور اسرائیل نے اعلی جدید ترین ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرکے حزب اﷲ اورحماس کو عسکری طورپر مفلوج اور ناقابل تلافی نقصان پہنچا کر خطے میں ایران کو تنہا کردیا۔ امریکا نے وینزویلا پر حملہ کرکے وہاں کے صدر اور ان کی بیوی کو اغوا کرکے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ دنیا میں پھر سے جنگل کا قانون مائیٹ از رائیٹ نافذ ہونے جارہا ہے جس میں طاقت ہی فیصلہ کن کردار اداکرتی ہے ۔

کوئی قانون یا اخلاقیات نہیں ۔ اس دفعہ یہ قانون گرین لینڈ، ڈنمارک ، یورپ پر بھی لاگو ہونے جا رہا ہے ۔ مشرق وسطی کی نئے سرے سے پیدائش صرف مشرق وسطی تک محدود نہیں رہے گی اس کا دائرہ کار ایران سے آگے بڑھ کر افغانستان اور پاکستان ، بھارت تک پھیلے گا۔ اس طرح امریکا اسرائیل کے ذریعے اس پورے خطے پر کنٹرول حاصل کر لے گا۔ نہ صرف یہ کہ اس پورے خطے بلکہ سینٹرل ایشیاء کی ریاستوں کے تمام قدرتی اور معدنیاتی وسائل پر بھی قبضہ کر لے گا۔ ایران کی موجودہ حکومت کے خلاف فیصلہ کن کارروائی صدر ڈونلڈٹرمپ کی ذاتی خواہش پر منحصر نہیں بلکہ ان کی حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

یعنی یہ امریکی ڈیپ اسٹیٹ کا وہ منصوبہ ہے جس پر آخر کار طویل مدت کے بعد عملدرآمد کرنے کا وقت آگیا ہے ۔ تہران سے ماہر بین الاقوامی امور محمد حسین باقری نے کہا ہے کہ آج یہاںتہران میں بالکل خاموشی ہے ۔اور شائد طوفان سے پہلی والی خاموشی ہے یہاں تقریباً سب کنٹرول ہو چکا ہے ٹرمپ کے ٹویٹ کے بعد بھی کوئی باہر نہیں نکلا ہے ۔CIAاور موساد اسی طرح سے کام کرتے ہیں ۔ پہلے اختلافات پیدا کرتے ہیں پھر لوگوں کو سڑکوں پر بلایا جاتا ہے اور پھر منظم جانی نقصان دنیا کو دکھایا جاتا ہے ۔ اور نتیجہ یہ دیا جاتا ہے کہ رجیم چینج میں کامیاب نہیں ہوئے تو عوام کے تحفظ کے نام پر براہ راست حملہ کردیں گے ۔ اور یہ بہت ناسمجھی اور بیوقوفی کی بات لگتی ہے کہ کوئی یہ سوچے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران کے عوام کی بھلائی کے لیے کچھ سوچ رہے ہیں ۔

12جنوری کو 30 لاکھ لوگوں نے سڑکوں پر آکر ایران کی حقیقی صورت حال دنیا پر واضح کردی کہ وہ حکومت اور سپریم لیڈر کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ ماضی کے مقابلے میں اس دفعہ مظاہرے اتنے بڑے نہیں تھے لیکن ہلاکتیں اس دفعہ زیادہ ہوئی ہیں ۔ احتجاج کے دوران پہلے دن سے گیارہویں دن تک ایک بھی گولی حکومت نے فائرنہیں کی ۔ اس کے بعد تین دن میں ایک سو سے زائد سیکیورٹی فورسز اہلکار شہید ہو گئے اس کا مطلب ہے کہ بڑے پیمانے پر مسلح دہشت گرد تنظیمیں سرگرم تھیں جو ہجوم پر پشت سے گولیاں چلا رہی تھی۔ اس لیے حکومت کو آخر کار کریک ڈاؤن کرنا ہی تھا۔ یہ ایرانی قوم کے DNAمیں شامل ہے کہ اندرونی طور پر جتنا بھی اختلاف ہو بیرونی طاقت سے متحد ہو کر لڑتے ہیں۔ اس لیے ٹرمپ کے پاس آپشن محدود ہیں لیکن کوئی بھی آپشن رجیم چینج تک نہیں جاتا ۔

تاریخ میں ایسی مثالیں بہت کم ہوں گی جہاں ایک قوم مسلسل گزشتہ 45برسوں سے اپنی خود مختاری اور آزادی کا دفاع کر رہی ہو۔ ایک طرف امریکی سامراج دوسری طرف اس کے اتحادی جو سامراجی آلہ کار بن کر ایران سے اس کی آزادی چھیننے کے درپے ہیں۔ لاکھوں انسانی جانوں کی قربانی ، کھربوں ڈالر کا مسلسل نقصان ، ناکہ بندیاں ، یعنی جان جاتی ہے تو جائے اپنی آزادی پر کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ نہیں کرنا ، امریکی سامراج اوراس کے چیلے چانٹوں سے نبرد آزما ہونا کوئی مذاق نہیں ۔ یہ ناقابل یقین معجزہ صرف اس وقت رونما ہوتا ہے جب پوری قوم چاہے مرد ہوں یا خواتین اپنی قیادت کے ساتھ مل کر سیسہ پلائی دیوار بن جائیں ۔

انقلاب ایران سے لے کر آج تک ایرانی قوم نے مردوخواتین کے امتیاز سے قطع نظر بے شمار مرتبہ سڑکوں پر آکر اپنی قیادت کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ اگر یہ انقلاب آج تک باقی ہے تو سچ پوچھا جائے تو اس میں مردوں سے زیادہ خواتین کا حصہ ہے ۔ ایک ہفتہ پیشتر جب ایرانی 30لاکھ کی تعداد میں اپنی قیادت سے یکجہتی کے لیے سڑکوں پر آئے تو وہ کسی ریاستی جبر یا بندوق کی نوک پر باہر نہیں آئے ۔

جو نادان سادہ لوح ایرانی خواتین کی آزادی کے حوالے سے غم میں مبتلا ہیں تو ایرانی خواتین کے لیے سنہری موقعہ تھا کہ وہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کی آواز پر لبیک کہتیں ۔لیکن یہ تو وطن سے غداری اور نسلوں کی غلامی ہوتی ۔ایرانی قوم کی سامراج سے لڑائی اس کی اکیلے کی لڑائی نہیں ۔ ایرانی قوم اس وقت صرف اپنی آزادی کی لڑائی نہیں لڑ رہی بلکہ وہ دنیا کی دیگر تمام اقوام کی لڑائی بھی لڑ رہی ہے جن کی آزادیوں کو ٹرمپ نے یہ کہہ کر چیلنج کردیا ہے کہ کوئی عالمی قانون اور اخلاقیات نہیں مانتا ۔ قانون صرف وہ ہے جو میرے دماغ اور امریکی مفاد میں ہے ۔

عالمی سامراجی میڈیا اور اس کے ذیلی اداروں کے دھوکے میں آکر پاکستانی عوام کو اس موقع پر غیر جانبدار نہیں رہنا چاہیے۔ ورنہ پاکستان کے لیے خدانخواستہ اسٹراٹیجک خطرات ہوں گے۔ امریکا اور اس سے زیادہ اسرائیل اس ایٹمی پروگرام کے درپے ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور قطر متحدہ عرب امارات مصروغیرہ بلا وجہ نہیں ٹرمپ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ ایران پر حملے سے بازرہے ۔ دنیا پھر سے ایک نئے اٹھارہ سالہ دور میں داخل ہوگئی ہے یہ چند ماہ پیشتر میں نے لکھا تھا ۔ یہ بھی لکھا تھا کہ سال کے شروع سے جون ، جولائی ، اگست تک جو کچھ بھی ہو گا ناقابل یقین حیرت انگیز ہوگا ۔ ایران کے حوالے سے مارچ تک کا وقت انتہائی حساس ہے ۔ اپریل ۔ مئی سے پاکستان کے لیے حساس وقت اور جون ، جولائی اگست بھارت کے لیے فیصلہ کن ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایرانی قوم کی سامراج سڑکوں پر کے لیے

پڑھیں:

مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں

پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ پاکستان کے مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی مومنہ اقبال حال ہی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں۔ لاہور میں ان کی دعائے خیر ، مہندی ، مایوں اور نکاح کی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال کے دلہا حمزہ حبیب کا تعلق لاہور سے ہے، وہ کامیاب اور مالی طور پر مستحکم کاروباری شخصیت ہیں تاہم وہ ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رہے۔ حالیہ دنوں میں مومنہ اقبال کو (ن ) لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کے معاملے پر حمزہ حبیب اپنی اہلیہ کی حمایت میں سامنے آنے کے بعد خبروں کا مرکز بن گئے۔ حمزہ حبیب کے مطابق ان کی اور مومنہ اقبال کی منگنی خاندانوں کی باہمی رضامندی سے ہوئی جب کہ دونوں خاندانوں کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات بھی ہیں۔ جوڑے نے مئی 2026 کے آخر میں ایک نجی تقریب میں نکاح کیا تھا۔ اس سے قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی سوشل میڈیا سٹوری کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے انہیں اور ان کی فیملی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اپنی تحقیقات کررہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی