بلوچستان میں 111 سب اکائونٹنٹس کی شفاف بھرتی، قابل تقلید مثال: وزیراعلیٰ
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
کوئٹہ (نوائے وقت رپورٹ) بلوچستان اور پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم اور فیصلہ کن سنگِ میل عبور کرتے ہوئے محکمہ خزانہ میں سب اکاؤنٹنٹ کی 111 خالی آسامیوں پر بھرتی کے لیے پہلی بار مکمل شفاف، جدید اور ڈیجیٹل آن لائن ٹیسٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔ اس تاریخی عمل کے تحت نہ صرف آن لائن ٹیسٹ منعقد کیے گئے بلکہ اسی روز نتائج کا اجراء کیا گیا اور کامیاب امیدواروں میں تقرری لیٹرز بھی تقسیم کر دیئے گئے، جو شفاف اور تیز رفتار نظام کی عملی مثال ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد صوبائی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر کے دوران واضح اور دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ بلوچستان میں اب کوئی نوکری فروخت نہیں ہوگی اور نوجوانوں کے روزگار کو کسی صورت سودے بازی کا ذریعہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ آج حکومتِ بلوچستان نے اس وعدے کو عملی جامہ پہنا کر ثابت کر دیا ہے کہ یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک مضبوط اور قابلِ عمل عزم تھا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی قیادت میں ایسا مؤثر اور ناقابلِ مداخلت ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے جس کے بعد سفارش، اقربا پروری اور غیر قانونی اثر و رسوخ کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں۔ آن لائن ٹیسٹنگ، فوری نتائج اور اسی دن تقرری لیٹرز کی حوالگی نے اس امر کو یقینی بنا دیا ہے کہ ہر امیدوار کو صرف اور صرف اپنی قابلیت، محنت اور اہلیت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا مساوی اور منصفانہ موقع میسر آئے۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومتِ بلوچستان کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی صورت ان کے حق پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو وعدے عوام سے کیے گئے تھے، آج وہ وعدے عملی شکل اختیار کر رہے ہیں اور یہ اصلاحاتی سفر میرٹ، شفافیت اور قانون کی بالادستی کے اصولوں کے تحت مسلسل جاری رہے گا یہ اقدام نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شفاف طرزِ حکمرانی، ڈیجیٹل اصلاحات اور مضبوط سیاسی عزم کے ذریعے نوجوانوں کے اعتماد کو بحال اور مستحکم کیا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔