کراچی کے پرہجوم تجارتی مرکز گل پلازہ میں لگی آگ تو بجھ گئی، لیکن اس کی تپش ایک ایسے خاندان کے گھر تک پہنچ گئی جس کا واحد سہارا اب یادوں کے سوا کچھ نہیں۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی: گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے تباہی مچا دی، 6 افراد جاں بحق، 60 لاپتا، عمارت کے 2 حصے منہدم

36 سالہ فائر فائٹر فرقان علی، جو شہریوں کے مال و جان کی حفاظت کرتے ہوئے ملبے تلے دب کر شہید ہو گئے، آج پورے شہر کے لیے ایک ایسی مشعلِ راہ بن چکے ہیں جسے وقت کی دھول کبھی دھندلا نہیں سکے گی۔

خون میں شامل ایثار کا جذبہ

فرقان علی کے لیے خطرات سے کھیلنا کوئی نئی بات نہ تھی۔ ایثار اور قربانی کا یہ جذبہ انہیں وراثت میں ملا تھا۔ ان کے والد، شوکت علی بھی محکمہ فائر بریگیڈ میں اپنی خدمات انجام دیتے رہے تھے، تاہم فالج کے حملے کے بعد وہ جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔

باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے فرقان نے 2018 میں ڈیسیز کوٹے پر اس پرخطر پیشے کا انتخاب کیا۔ وہ محض ایک سرکاری ملازم نہیں تھے، بلکہ اپنے والد کے ادھورے مشن کو آگے بڑھانے والے ایک سپاہی تھے۔

آخری کال اور فرض کی پکار

ہفتے کی شب 10 بجکر 26 منٹ پر جب گل پلازہ میں لگی آگ نے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا، تو شہر بھر کے فائر اسٹیشنز کو الرٹ کر دیا گیا۔ فرقان علی بھی ہمیشہ کی طرح فرنٹ لائن پر موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیے: ’گل پلازہ کی آگ اور وہ ادھوری خریداری جو کبھی مکمل نہ ہو سکی‘

صبح 5 بجے کے قریب، جب آگ پر قابو پانے کی آخری کوششیں جاری تھیں، پلازہ کی عقبی دکانوں میں آپریشن کے دوران اچانک ایک ملبہ گرا، جس نے فرقان کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔ وہ ڈیوٹی جو انہوں نے شہریوں کو بچانے کے لیے شروع کی تھی، ان کی زندگی کی آخری ڈیوٹی ثابت ہوئی۔

قومی ہیرو کو خراجِ تحسین

دنیا بھر میں فائر فائٹرز کو سیویلین ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہے، کیونکہ وہ اس وقت آگ میں کودتے ہیں جب دنیا وہاں سے باہر بھاگ رہی ہوتی ہے۔ فرقان علی کی اس عظیم قربانی پر گورنر سندھ، وزیر اعلیٰ اور میئر کراچی سمیت تمام سیاسی و سماجی شخصیات نے انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ فرقان علی نے پیشہ ورانہ دیانت کی وہ مثال قائم کی ہے جس پر محکمہ فائر بریگیڈ اور پورا شہر فخر کرتا رہے گا۔

ایک خلا جو کبھی پُر نہ ہوگا

فرقان علی کی شادی کے بعد زندگی ایک نئے اور خوشحال موڑ پر تھی، لیکن تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ آج کراچی کی فضائیں سوگوار ہیں اور ہر آنکھ پرنم ہے۔

یہ بھی پڑھیے: کراچی گل پلازہ آتشزدگی: صدر زرداری کی وزیراعلیٰ سندھ کو تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت

فرقان علی آج ہمارے درمیان نہیں، لیکن ان کی بہادری کی داستان گل پلازہ کی دیواروں سے لے کر کراچی کی شاہراہوں تک ہمیشہ یاد  رہے گی۔ وہ ایک ایسے ہیرو کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جس نے دوسروں کے گھر روشن رکھنے کے لیے اپنا چراغِ زندگی بجھا دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

Fire Fighter Gul Plaza Fire فائر فائٹر گل پلازہ آتشزدگی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: فائر فائٹر گل پلازہ ا تشزدگی فرقان علی گل پلازہ پلازہ کی کے لیے

پڑھیں:

کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن  تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔

 پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد

پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔

اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار