کراچی:

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے میں غیرجانب دار الیکشن کمیشن اور صاف و شفاف انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی مینڈیٹ چھیننے والوں کے خلاف آرٹیکل 6 لگایا جائے۔

کراچی پریس کلب میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے میں تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اپنے مطالبات پیش کردیے ہیں اور کہا ہے کہ غیرجانب دار الیکشن کمیشن اور فری اینڈ فیئر الیکشن کروائے جائیں۔

مطالبہ کیا گیا کہ عوامی مینڈیٹ چھینے والوں کے خلاف آرٹیکل 6 لگایا جائے، حکومت سندھ عوام کو سہولیات دینے میں ناکام ہوگئی ہے، 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے میڈیا کی آزادی ختم کر دی گئی ہے۔

اعلامیے میں اپوزیشن نے ججوں کے جبری تبادلوں کی مذمت کی، اسی طرح عمران خان اور بشریٰ بی بی سمیت دیگر سیاسی اسیران کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات نہ کرانے کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ عمران خان سے ملاقات پر عائد پابندی ہٹائی جائے۔

کانفرنس میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے رہنماؤں پر جھوٹے مقدمات کی مذمت کی گئی اور صحافیوں کے حقوق پر بات کرتے ہوئے پیکا ایکٹ کالعدم کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور صحافی مطیع اللہ جان پر جھوٹی ایف آئی آر، معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر جھوٹے مقدمات کی مذمت کی گئی۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کہا کہ معاشی استحکام سیاسی استحکام سے جڑا ہوا ہے، ملٹی نیشنل ادارے بند ہونے کو ہیں، سیاسی لوگوں کی جبری گم شدگیوں کو بند کیا جائے، خیبرپختونخوا میں منعقد جرگے پر عمل کیا جائے۔

حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا میں ہونے والے فوجی آپریشن کو روکا جائے اور آئین کے تحت معدنیات صوبوں کی ملکیت ہے ، پانی کی تقسیم 91 کارڈ کے مطابق کی جائے۔

پڑوسی ممالک کے حوالے سے کہا گیا کہ ایران پر بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، حکومت ممکنہ بحرانوں کے مد نظر رکھتے ہوئے ہمسائے ممالک کا اجلاس بلائے اور غزہ کے معاملے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔

اپوزیشن اتحاد نے کہا کہ 8 فروری کو شٹر ڈاؤن پہیہ جام یوم سیاہ منایا جائے گا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل تحریک تحفظ آئین پاکستان کی مذمت کی کا مطالبہ گیا کہ

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم