مالی اور جانی نقصان تاجروں کا ہو رہا ہے اور الزام بھی ان کو دیا جا رہا ہے: جاوید قریشی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
انجمن تاجران سندھ کے صدر جاوید قریشی نے کہا ہے کہ مالی اور جانی نقصان تاجروں کا ہو رہا ہے اور الزام بھی تاجروں کو دیا جا رہا ہے۔
پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گل پلازا میں 34 گھنٹے میں بھی ریسکیو کا کام مکمل نہیں ہوا، حکومت کو ناکامی کا اعتراف کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی نااہلی ہے کہ وہ لوگوں کو ریسکیو نہیں کر سکی، مینٹیننس کی رقم چوکیداری سسٹم، مینٹیننس اور جنریٹر کے ڈیزل پر خرچ ہوتی تھی۔
یہ بھی پڑھیے گل پلازا میں آگ کس دکان میں لگی؟ فائر بریگیڈ حکام نے بتادیا کراچی: گل پلازہ کی آگ بجھا دی گئی، کولنگ کا عمل جاری، جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہوگئیجاوید قریشی نے کہا کہ گل پلازا کے بیسمنٹ میں پارکنگ تھی، جس میں دکانیں بنا دی گئیں، گل پلازا کے بیسمنٹ سمیت گراؤنڈ پلس ون کی اجازت تھی، جس میں توسیع ہوتی گئی، گل پلازا میں تمام توسیع قانونی طریقے سے کی گئی۔
انجمن تاجران سندھ کے صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے پاس 60 سے 80 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
واضح رہے کہ کراچی گل پلازا کی آگ 33 گھنٹے گزرنے کے بعد مکمل طور پر بجھا دی گئی، جلی ہوئی عمارت سے مزید 4 افراد کی لاشیں نکالی گئیں، آگ سے جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہو گئی جبکہ 22 زخمی زیر علاج ہیں۔
چیف فائر افسر کے مطابق پلازا میں کولنگ کا عمل جاری ہے، کٹر کی مدد سے کھڑکیوں کو کاٹا جارہا ہے، ہتھوڑوں کی مدد سے دیوار کو بھی گرایا جارہا ہے۔
پلازا کی تیسری منزل پر پھنسے کسی شخص کی موجودگی کے امکان پر ریسکیو آپریشن میں اتوار کی رات فائر فائٹرز عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پلازا میں گل پلازا رہا ہے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔