انجمن تاجران سندھ کے صدر جاوید قریشی نے کہا ہے کہ مالی اور جانی نقصان تاجروں کا ہو رہا ہے اور الزام بھی تاجروں کو دیا جا رہا ہے۔

پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گل پلازا میں 34 گھنٹے میں بھی ریسکیو کا کام مکمل نہیں ہوا، حکومت کو ناکامی کا اعتراف کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی نااہلی ہے کہ وہ لوگوں کو ریسکیو نہیں کر سکی، مینٹیننس کی رقم چوکیداری سسٹم، مینٹیننس اور جنریٹر کے ڈیزل پر خرچ ہوتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے گل پلازا میں آگ کس دکان میں لگی؟ فائر بریگیڈ حکام نے بتادیا کراچی: گل پلازہ کی آگ بجھا دی گئی، کولنگ کا عمل جاری، جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہوگئی

جاوید قریشی نے کہا کہ گل پلازا کے بیسمنٹ میں پارکنگ تھی، جس میں دکانیں بنا دی گئیں، گل پلازا کے بیسمنٹ سمیت گراؤنڈ پلس ون کی اجازت تھی، جس میں توسیع ہوتی گئی، گل پلازا میں تمام توسیع قانونی طریقے سے کی گئی۔

انجمن تاجران سندھ کے صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے پاس 60 سے 80 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔

واضح رہے کہ کراچی گل پلازا کی آگ 33 گھنٹے گزرنے کے بعد مکمل طور پر بجھا دی گئی، جلی ہوئی عمارت سے مزید 4 افراد کی لاشیں نکالی گئیں، آگ سے جاں بحق افراد کی تعداد 14 ہو گئی جبکہ 22 زخمی زیر علاج ہیں۔

چیف فائر افسر کے مطابق پلازا میں کولنگ کا عمل جاری ہے، کٹر کی مدد سے کھڑکیوں کو کاٹا جارہا ہے، ہتھوڑوں کی مدد سے دیوار کو بھی گرایا جارہا ہے۔

پلازا کی تیسری منزل پر پھنسے کسی شخص کی موجودگی کے امکان پر ریسکیو آپریشن میں اتوار کی رات فائر فائٹرز عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پلازا میں گل پلازا رہا ہے

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے