گل پلازہ آتشزدگی: خریداری ہوگئی، نکل رہے ہیں،اپنی شادی کی شاپنگ میں مصروف لاپتاخاتون کی آخری گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ پر بالآخر 36 گھنٹے گزرنے کے بعد قابو پا لیا گیا،آتشزدگی کے باعث عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے۔
فائر فائٹرز کو متاثرہ عمارت سے گزشتہ رات سے اب تک مزید ایک بچے سمیت 5 افراد کے اعضاء ملے ہیں، جس کے بعد ایک فائر فائٹر سمیت ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 15 ہوگئی ہے جبکہ 54 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق اب تک مرنے والوں میں ایک خاتون اور دیگر تمام مرد ہیں، آپریشن کے دوران لاشیں نکلنے کا سلسلہ بھی جاری ہے جبکہ ناقابل شناخت لاشوں کو امانتاً ایدھی سرد خانے میں رکھوا دیا گیا ہے۔
چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد نے میڈیا سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گل پلازہ میں مرکزی آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے، اور اس وقت کولنگ کا عمل چل رہا ہے۔
کراچی ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں ہفتے کی رات سوا دس بجے آگ بھڑک اٹھی جو بڑھتی ہی چلی گئی، فائربریگیڈ کی گاڑیاں بڑی تعداد میں پہنچیں مگر آگ بڑھتی ہی رہی، آتشزدگی سے عمارت کے دو حصے گر گئے۔
آتشزدگی کے دوران گل پلازہ میں پھنسے ایک دکاندار آفتاب کا اپنے اہل خانہ کو بھیجا گیا آخری پیغام سامنے آگیا جس میں اس نے بتایا کہ وہ آگ میں پھنس گیا ہے، بہت خطرناک آگ لگی ہے، نکلنا بہت مشکل ہے، کوئی غلطی، کوتاہی ہوگئی ہو تو معاف کردینا۔
آگ لگنے کے بعد لاپتا افراد کی فیملی کی خاتون نے بتایا کہ 4 افراد لاپتا ہیں، جن میں دلہن ان کی والدہ ایک بہن بھائی اور والدہ شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نمرہ کی عید کے بعد شادی تھی جس کی شاپنگ کے لیے گل پلازہ خریداری کے لیے پہنچے تھے، آخری کال ہفتے کی رات موصول ہوئی جس میں بتایا کہ خریداری ہوگئی 15 منٹ میں گھر کے لیے نکل رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نمرہ کی عید کے بعد شادی تھی جس کی شاپنگ کے لیے گل پلازہ خریداری کے لیے پہنچے تھے، آخری کال ہفتے کی رات موصول ہوئی جس میں بتایا کہ خریداری ہوگئی 15 منٹ میں گھر کے لیے نکل رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہفتے کی رات نے بتایا کہ ا تشزدگی گل پلازہ کے لیے کے بعد
پڑھیں:
بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
تصویر سوشل میڈیا۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔