data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ فنکشنل مرکزی نائب صدر پیر یاسر سائیں کے میڈیا کوآرڈنیٹر شاہد خان اور دیگر رہنماں نے اپنے ایک بیان میں سانحہ گل پلازہ فائر سیفٹی کے بنیادی انتظامات کا فقدان، ناقص وائرنگ، غیر قانونی تعمیرات اور متعلقہ اداروں کی مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی شہر کی بلند و بالا عمارتیں، شاپنگ مالز، پلازے، سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور رہائشی کمپلیکس بظاہر ترقی اور جدیدیت کی علامت تو دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں ان میں سے سینکڑوں عمارتیں آگ لگنے کے شدید خطرات سے دوچار ہیں یہ تلخ حقیقت ہے کہ کراچی شہر میں بیشتر عمارتوں میں فائر الارم سسٹم، اسپرنکلرز، ایمرجنسی ایگزٹس اور فائر فائٹنگ آلات یا تو موجود ہی نہیں یا کاغذی کارروائی تک محدود ہیں، بیشتر عمارتوں میں سیڑھیوں اور ایمرجنسی راستوں کو دکانوں، گوداموں یا غیر قانونی کمروں میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جس کے باعث کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انسانی جانیں بری طرح پھنس سکتی ہیں، بجلی کی اوورلوڈنگ، ناقص کیبلنگ اور جنریٹرز کا غیر محفوظ استعمال آگ لگنے کی سب سے بڑی وجو ہات بن چکا ہے تشویشناک امر یہ ہے کہ فائر بریگیڈ اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کی جانب سے باقاعدہ معائنہ نہ ہونے کے برابر ہے، قوانین تو موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد کا فقدان اس نظام کو بے معنی بنا دیتا ہے، اجازت نامے حاصل کرنے کے بعد عمارتوں میں من مانی تبدیلیاں کی جاتی ہیں اور متعلقہ ادارے یا تو خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں یا پھر ملی بھگت کے ذریعے آنکھیں بند کر لیتے ہیں ماضی میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعات ہمیں بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ لاپروائی کی قیمت انسانی جانوں سے چکانی پڑتی ہے، مگر افسوس کہ ہر سانحے کے بعد چند دن کی بحث، بیانات اور کمیٹیوں کے قیام کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ مستقل اور مثر اقدامات آج بھی ناپید ہیںضرورت اس امر کی ہے کہ شہر کی تمام عمارتوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے، غیر محفوظ عمارتوں کو نوٹس جاری ہوں، اور قواعد کی خلاف ورزی پر بلا امتیاز سخت کارروائی کی جائے،فائر بریگیڈ کو جدید آلات اور تربیت فراہم کی جائے، جبکہ عمارت مالکان کو فائر سیفٹی انتظامات یقینی بنانے کا پابند کیاجائے اگر آج بھی سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بڑے سانحے کی ذمہ داری صرف آگ پر نہیں، بلکہ اس نظام پر عائد ہوگی جو خطرات جانتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 

پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز،  915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ 

متعلقہ مضامین

  • خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار