سانحہ گل پلازہ،اداروں کی غفلت نے کئی جانیں لے لیں،شاہد خان
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ فنکشنل مرکزی نائب صدر پیر یاسر سائیں کے میڈیا کوآرڈنیٹر شاہد خان اور دیگر رہنماں نے اپنے ایک بیان میں سانحہ گل پلازہ فائر سیفٹی کے بنیادی انتظامات کا فقدان، ناقص وائرنگ، غیر قانونی تعمیرات اور متعلقہ اداروں کی مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی شہر کی بلند و بالا عمارتیں، شاپنگ مالز، پلازے، سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور رہائشی کمپلیکس بظاہر ترقی اور جدیدیت کی علامت تو دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں ان میں سے سینکڑوں عمارتیں آگ لگنے کے شدید خطرات سے دوچار ہیں یہ تلخ حقیقت ہے کہ کراچی شہر میں بیشتر عمارتوں میں فائر الارم سسٹم، اسپرنکلرز، ایمرجنسی ایگزٹس اور فائر فائٹنگ آلات یا تو موجود ہی نہیں یا کاغذی کارروائی تک محدود ہیں، بیشتر عمارتوں میں سیڑھیوں اور ایمرجنسی راستوں کو دکانوں، گوداموں یا غیر قانونی کمروں میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جس کے باعث کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انسانی جانیں بری طرح پھنس سکتی ہیں، بجلی کی اوورلوڈنگ، ناقص کیبلنگ اور جنریٹرز کا غیر محفوظ استعمال آگ لگنے کی سب سے بڑی وجو ہات بن چکا ہے تشویشناک امر یہ ہے کہ فائر بریگیڈ اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کی جانب سے باقاعدہ معائنہ نہ ہونے کے برابر ہے، قوانین تو موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد کا فقدان اس نظام کو بے معنی بنا دیتا ہے، اجازت نامے حاصل کرنے کے بعد عمارتوں میں من مانی تبدیلیاں کی جاتی ہیں اور متعلقہ ادارے یا تو خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں یا پھر ملی بھگت کے ذریعے آنکھیں بند کر لیتے ہیں ماضی میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعات ہمیں بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ لاپروائی کی قیمت انسانی جانوں سے چکانی پڑتی ہے، مگر افسوس کہ ہر سانحے کے بعد چند دن کی بحث، بیانات اور کمیٹیوں کے قیام کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ مستقل اور مثر اقدامات آج بھی ناپید ہیںضرورت اس امر کی ہے کہ شہر کی تمام عمارتوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے، غیر محفوظ عمارتوں کو نوٹس جاری ہوں، اور قواعد کی خلاف ورزی پر بلا امتیاز سخت کارروائی کی جائے،فائر بریگیڈ کو جدید آلات اور تربیت فراہم کی جائے، جبکہ عمارت مالکان کو فائر سیفٹی انتظامات یقینی بنانے کا پابند کیاجائے اگر آج بھی سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بڑے سانحے کی ذمہ داری صرف آگ پر نہیں، بلکہ اس نظام پر عائد ہوگی جو خطرات جانتے ہوئے بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔