کرن جوہر، سلمان خان کی وینٹی وین میں کیوں رو پڑے؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
بالی ووڈ کے معروف ہدایت کار کرن جوہر نے انکشاف کیا کہ ہے نامور اداکار سلمان خان کے ایک فیصلے نے فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کے سیٹ پر انہیں رُلا دیا تھا۔
بھارت کے نامور ہدایت کار ومیزبان کرن جوہر’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ اور ’کبھی خوشی کبھی غم جیسی‘ ہٹ فلموں کے لیے جانے جاتے ہیں جب کہ انہوں نے اپنے کیریئر میں متعدد بلاک بسٹر فلمیں بالی ووڈ کو دی ہیں، تاہم ان کی کچھ فلمیں فلاپ بھی ثابت ہوئی ہیں۔
حال ہی میں انہوں نے ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کے مشہور گانے ’ساجن جی گھر آئے‘ کی شوٹنگ کے دوران وہ سلمان خان کی وینٹی وین میں رو پڑے تھے۔
فلم ساز اور پروڈیوسر ہونے کے ساتھ ساتھ کرن جوہر ایک معروف ملبوسات برانڈ کے لیے پوڈکاسٹ کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔
اپنے پوڈکاسٹ کے تازہ ترین ایپی سوڈ میں کرن جوہر نے نیتی موہن، شکتی موہن اور مکتی موہن کو مدعو کیا، جہاں بالی ووڈ کی بہترین شادی کی سنگیت کی تیاری پر گفتگو ہوئی۔
اسی گفتگو کے دوران کرن جوہر ماضی میں چلے گئے اور اپنی ابتدائی فلم میں شادی کے گانے ’ساجن جی گھر آئے‘ کی شوٹنگ کا قصہ سنایا۔
انہوں نے بتایا کہ ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ میں ان کی سلمان خان کے ساتھ یہ پہلی فلم تھی اور چونکہ سلمان ایک بہت بڑے اسٹار تھے، اس لیے وہ کافی گھبرائے ہوئے تھے۔
سلمان کے سیٹ پر پہلے دن جب کرن جوہر ان کی وینٹی وین میں داخل ہوئے تو سلمان خان ٹی شرٹ اور جینز پہنے ہوئے تھے۔
کرن نے دبنگ اداکار کو بتایا کہ وہ یہ گانا ایک بہت بڑے اور شاندار سیٹ پر شوٹ کرنے والے ہیں۔ ۔
اس پر سلمان خان نے بڑے آرام سے جواب دیا کہ ’ہاں، لیکن اگر پہلی بار دولہا جینز اور ٹی شرٹ میں آئے تو یہ ایک نیا اسٹائل ہوگا، میں اس میں سوَیگ لے آؤں گا‘۔
یہ سن کر کرن جوہر پریشان ہو گئے کیونکہ سیٹ بہت شاندار تھا اور سلمان خان کی ہیروئن کاجول ایک لہنگا پہنے ہوئے تھیں، ایسے میں دلہا جینز اور ٹی شرٹ میں آ گئے تو کیا ہوگا۔
جہاں سلمان خان پُراعتماد تھے، وہیں کرن جوہر شدید دباؤ میں آ گئے اور وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور سلمان خان کے سامنے ہی ان کی وینٹی وین میں رو پڑے۔
انہیں روتا دیکھ کر سلمان خان نے اپنی ضد چھوڑی اور سوٹ پہن کر شوٹنگ پر آنے پر رضامندی ظاہر کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ان کی وینٹی وین میں کرن جوہر
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔