وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق ہزاروں درخواستوں کی سماعت، کیس کل تک ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق دائر دو ہزار سے زائد درخواستوں پر سماعت کے دوران وکلاء کے تفصیلی دلائل سنے گئے، تاہم عدالت نے مزید سماعت کل تک کے لیے ملتوی کر دی۔
سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 150 وکلاء میں سے 100 سے زائد اپنے دلائل مکمل کر چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ارشد شریف قتل کیس، وفاقی حکومت نے آئینی عدالت میں پیشرفت رپورٹ جمع کروا دی
مختلف انٹرنیٹ کمپنیوں کے وکیل عدنان حیدر رندھاوا نے مؤقف اختیار کیا کہ فنانس بل 2022 سے پہلے ان کی کمپنیوں سے 18 ماہ کا سپر ٹیکس وصول کیا گیا۔ اس پر چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ جب ٹیکس ایئر 12 ماہ کا ہوتا ہے تو 18 ماہ کا ٹیکس کیسے عائد کیا جا سکتا ہے۔
ایف بی آر کی وکیل عاصمہ حامد نے جواب میں کہا کہ تمام ٹیکس ہمیشہ 12 ماہ کی بنیاد پر لگائے جاتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر 18 ماہ کا ٹیکس ادا کیا گیا تھا تو اضافی رقم کی واپسی کے لیے درخواست کیوں نہیں دی گئی۔
عدنان حیدر رندھاوا نے عدالت کو بتایا کہ سپر ٹیکس کی شق 4 سی یکم جولائی 2022 سے نافذ ہوئی، جبکہ ان سے یکم جنوری 2021 سے خصوصی ٹیکس وصول کیا جا رہا تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سپر ٹیکس 18 ماہ پہلے سے لیا گیا۔
عدالت میں مختلف انٹرنیٹ کمپنیوں کے وکیل عدنان حیدر رندھاوا کے دلائل مکمل ہو گئے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر فوجی فرٹیلائزرز کے وکیل جمال احمد سکھیرا اپنے دلائل پیش کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چیف جسٹس امین الدین عدنان حیدر رندھاوا وفاقی آئینی عدالت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیف جسٹس امین الدین عدنان حیدر رندھاوا وفاقی آئینی عدالت عدنان حیدر رندھاوا عدالت میں سپر ٹیکس ماہ کا
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔