مہندی سے ولیمہ تک: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جوڑوں پر کتنے لاکھ خرچ کیے؟ قیمتیں حیران کن
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اپنے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی کے موقع پر اپنی شاندار تیاری اور دیدہ زیب لباس کے باعث مرکزِ نگاہ بن گئیں۔ مہندی سے لے کر ولیمہ تک ہر تقریب میں ان کے لباس کی قیمت لاکھوں روپے میں تھی۔
مریم نواز نے بیٹے کی شادی کی تقریب میں مشہور پاکستانی ڈیزائنرز نومی انصاری اور اقبال حسین کے ڈیزائن کردہ لباس پہنے جن کی قیمتیں 13 لاکھ سے 17 لاکھ 70 ہزار روپے تک تھیں جبکہ ویلنٹینو کا منی بیگ تقریباً 9 لاکھ روپے کا تھا جس نے ان کے لک کو مزید پرکشش بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹے کی شادی پر مریم نواز مرکز نگاہ، پیپلز پارٹی کی خواتین بھی معترف
مہندی کی تقریب کے لیے مریم نواز نے نومی انصاری کا ڈیزائن کردہ پیلے رنگ کا خوبصورت لہنگا منتخب کیا جس پر باریک گوٹا، کامدار کڑھائی اور نفیس نقش و نگار نمایاں تھے۔ اس لباس کی قیمت 17 لاکھ 70 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔
بارات کی تقریب کے لیے انہوں نے ڈیزائنر اقبال حسین کا اولیو گرین ٹشو سلک کا پریمیم برائیڈل لباس پہنا، جس پر سلور زردوزی اور نفیس دھاگا ورک کیا گیا۔ پولکی اور کندن جیولری نے ان کے لک کو مزید دلکش بنایا۔ اس لباس کی قیمت 13 لاکھ 5 ہزار روپے ہے اور ساتھ میں انہوں نے ویلنٹینو کا منی بیگ بھی لیا جس کی قیمت تقریباً 9 لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنید صفدر کی شادی میں مریم اورنگزیب کی حیران کن ٹرانسفارمیشن نے سب کو حیران کردیا
جبکہ ولیمے کے موقع پر بھی مریم نواز نے نومی انصاری کے ڈیزائن کا شاندار لباس پہنا جس کی قیمت 17 لاکھ 70 ہزار روپے تھی۔
یہ تقریب نہ صرف رشتوں کی خوشیوں کا مرکز رہی بلکہ ملبوسات اور فیشن کی دنیا میں بھی سب کی نظروں کا مرکز بنی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقبال حسین جنید صفدر شادی مریم نواز مریم نواز ڈریس مریم نواز ملبوسات کی قیمتیں نومی انصاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقبال حسین مریم نواز مریم نواز ڈریس مریم نواز ملبوسات کی قیمتیں مریم نواز نے ہزار روپے کی شادی کی قیمت
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔