محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر ہو چکے ہیں، جس کے بعد یہ دعوے زور پکڑ رہے ہیں کہ محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے پس منظر میں نواز شریف نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ نواز شریف اور محمود خان اچکزئی کے باہمی رابطے اور سیاسی تعلقات کیا عمران خان کی رہائی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں، یا پھر اچکزئی اس معاملے سے خود کو الگ کر لیں گے؟

دوسری جانب گرینڈ اپوزیشن کے قیام کی باتیں بھی گردش میں ہیں، لیکن کیا موجودہ سیاسی حالات میں محمود خان اچکزئی کے لیے ایسی ہمہ گیر اپوزیشن کو یکجا کرنا واقعی ممکن ہو پائے گا؟

مزید پڑھیں: اپوزیشن اتحاد کا مذاکرات کے لیے تیار رہنے کا اعلان، کیا اس مؤقف پر عمران خان کی رہائی ممکن ہوسکے گی؟

’اب اپوزیشن ذمہ دار اور متوازن نظر آئےگی‘

سیاسی تجزیہ کار حماد حسن نے کہاکہ محمود خان اچکزئی کے اپوزیشن میں آنے سے حزب اختلاف کے اندر جو عدم توازن پایا جا رہا تھا اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جو غیر معمولی جارحانہ پن دکھائی دے رہا تھا، اس میں واضح کمی آئے گی۔

ان کے مطابق اپوزیشن جو اس سے قبل غیر سنجیدہ اور غیر پختہ رویے کا مظاہرہ کر رہی تھی، اب زیادہ ذمہ دار اور متوازن نظر آئے گی۔

حماد حسن نے کہاکہ محمود اچکزئی جمہوریت، پارلیمانی روایات اور سیاسی برداشت کی بات کریں گے، جس کے نتیجے میں بالواسطہ طور پر حکومت میں شامل جماعتوں کو بھی فائدہ پہنچے گا اور سیاسی ماحول میں کشیدگی کم ہوگی۔

انہوں نے مزید کہاکہ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ محمود خان اچکزئی اور نواز شریف کے درمیان تعلقات ہمیشہ سے خوشگوار رہے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ انہیں اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے منتخب کیا گیا۔

حماد حسن کے مطابق محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے نواز شریف نے نہ صرف آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان کو قائل کیا بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی اعتماد میں لیا۔

’اس فیصلے کا ایک بڑا مقصد بلوچستان کے بگڑتے ہوئے حالات کے تناظر میں صوبے کو قومی سطح پر بہتر سیاسی نمائندگی دینا تھا تاکہ وہاں کے احساسِ محرومی میں کمی لائی جا سکے۔‘

’محمود اچکزئی عمران خان کی رہائی کے لیے سنجیدہ کوشش ضرور کریں گے‘

ایک سوال کے جواب میں سیاسی تجزیہ کار حماد حسن کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے محمود خان اچکزئی سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں، خصوصاً اس حوالے سے کہ وہ عمران خان کی رہائی کے لیے کردار ادا کریں گے۔ ان کے مطابق محمود خان اچکزئی عمران خان کی رہائی کے لیے سنجیدہ کوششیں ضرور کریں گے۔

حماد حسن نے مزید کہاکہ چونکہ محمود خان اچکزئی کو اس اہم عہدے تک لانے میں نواز شریف نے دیگر تمام سیاسی قوتوں کو قائل کیا ہے، اس لیے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے معاملے پر نواز شریف سمیت دیگر سیاسی جماعتیں بھی کسی حد تک آمادہ ہوں گی۔ ان کے بقول اس معاملے پر سیاسی سطح پر بات چیت اور مذاکرات کا آغاز ہونا بعید از قیاس نہیں۔

’محمود اچکزئی پی ٹی آئی کے لیے کچھ رعایتیں حاصل کرلیں گے‘

سیاسی ماہر ماجد نظامی نے کہاکہ موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھا جائے تو محمود خان اچکزئی کا سابق وزیراعظم عمران خان کو رہا کروانا قیاس لگتا ہے، تاہم وہ اسمبلی کے اندر اور باہر ایک ذمہ دارانہ اپوزیشن کے ذریعے تحریک انصاف کے لیے کچھ نہ کچھ رعایتیں ضرور حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

’اس کے ساتھ انہیں ایک خطرہ پاکستان تحریک انصاف سے اور اس کی اندرونی تنظیم سے بھی ہوگا، کیونکہ پی ٹی آئی اس فیصلے پر اندرونی طور پر خوش نظر نہیں آتی، اور یقیناً پارٹی کی جانب سے ان کی راہ میں روڑے بھی اٹکائے جائیں گے۔‘

انہوں نے مزید کہاکہ یہ درست ہے کہ میاں نواز شریف اور محمود خان اچکزئی کا ورکنگ ریلیشن شپ رہا ہے، بلوچستان میں حکومت انہوں نے اکٹھے ہی کی ہے۔

’محمود خان اچکزئی کے بھائی 5 سال مسلم لیگ نواز کی حکومت میں گورنر بھی رہے ہیں، لیکن اس وقت پی ڈی ایم اور 9 فروری کے بعد سے حالات بہت بدل چکے ہیں۔ اور اب میاں نواز شریف اور محمود اچکزئی اپنے اپنے سیاسی مفادات کو دیکھ کر ہی فیصلے کریں گے۔‘

’عمران خان کو کوئی بڑا ریلیف ملتا نظر نہیں آرہا‘

ماجد نظامی کے مطابق ان کے درمیان بنیادی احترام اور ذاتی تعلق تو بالکل موجود ہے، مگر اس کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرنا کہ چیزیں یکسر بدل جائیں گی اور عمران خان رہا ہو جائیں گے، یا تحریک انصاف کو کوئی بڑا ریلیف مل جائے گا تو مجھے ایسا نظر نہیں آتا۔

’نواز شریف نے محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کرانے کے لیے کردار ادا کیا‘

سیاسی تجزیہ کار احمد ولید کے مطابق نواز شریف اور محمود خان اچکزئی کے تعلقات کسی ایک مرحلے تک محدود نہیں بلکہ ان کی جڑیں خاصی پرانی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ڈاکٹر عبدالمالک کی حکومت کی تشکیل بھی اسی سیاسی سوچ کا تسلسل تھی، جس کا مقصد مختلف بلوچ دھڑوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا، اسی تناظر میں محمود خان اچکزئی کے کردار کو قبول کیا گیا اور یہی سیاسی اعتماد بعد ازاں انہیں اپوزیشن لیڈر کے طور پر نامزد کیے جانے کی وجہ بنا۔

احمد ولید کے مطابق اگرچہ عمران خان بھی محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر دیکھنے کے خواہاں تھے، تاہم دیگر سیاسی رکاوٹوں کو دور کرنے میں نواز شریف نے کلیدی کردار ادا کیا اور معاملہ طے پایا۔

’عمران خان کی فوری رہائی ہوتی نظر نہیں آرہی‘

عمران خان کی ممکنہ رہائی کے حوالے سے احمد ولید نے اسے ایک نہایت مشکل اور دور کی بات قرار دیا۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی حالات میں ایسا کوئی اشارہ نظر نہیں آتا کہ عمران خان کی رہائی قریب ہو۔

انہوں نے کہاکہ اگرچہ محمود خان اچکزئی اپوزیشن کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اصل اور مرکزی اپوزیشن خود عمران خان ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان محمود خان اچکزئی کو مکمل مینڈیٹ دیں گے کہ وہ ان کی جانب سے مذاکرات کریں اور پھر ان فیصلوں کو تسلیم بھی کیا جائے؟ کیونکہ عمران خان کی رضامندی کے بغیر کسی قسم کا فیصلہ ممکن نہیں۔

احمد ولید کا کہنا تھا کہ عمران خان کی خواہش واضح ہے کہ مذاکرات اگر ہوں تو وہ اسٹیبلشمنٹ سے ہوں، کسی سیاسی جماعت یا حکومتی رہنما سے نہیں۔ اس صورتِ حال میں سیاستدانوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات محض سیاسی نوعیت کے ہوں گے، جن کے دائرہ اختیار کی اپنی حدود ہیں۔

’مزید یہ کہ موجودہ حکومت میں شامل سیاستدان بھی اپنی مجبوریوں کے باعث آزادانہ فیصلے کرنے کی پوزیشن میں نہیں، خاص طور پر عمران خان کے خلاف موجود مقدمات اور اسٹیبلشمنٹ کے موجودہ رویے کو دیکھتے ہوئے۔‘

مزید پڑھیں: تحریک انصاف کے سابق رہنماؤں کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کے بجائے کس کی رہائی مطلوب ہے؟

ان کے بقول اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے فی الحال عمران خان کو سیاسی عمل میں واپس لانے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے، اس لیے یہ معاملہ تاحال بہت دور دکھائی دیتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اپوزیشن لیڈر پی ٹی آئی عمران خان رہائی قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی نواز شریف وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر پی ٹی ا ئی عمران خان رہائی قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی نواز شریف وی نیوز اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر عمران خان کی رہائی کے محمود خان اچکزئی کے محمود خان اچکزئی کو نواز شریف اور محمود کہ عمران خان کی محمود اچکزئی نواز شریف نے تحریک انصاف کی جانب سے احمد ولید کہ محمود کے مطابق نظر نہیں انہوں نے نے کہاکہ کریں گے رہے ہیں نہیں ا کے لیے

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان