لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے سہولت بازار سے سستی اور معیاری اشیاء بھی اور ہزاروں بے روز گار لوگوں کو روزگار بھی مل گئے۔ منفرد اور پہلا سہولت بازار پراجیکٹ ہے جس سے عوام کو سستی اشیاء ملنے لگیں اور بے روزگاروں کے لئے روزگار کے مواقع کھل گئے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے سہولت بازار پراجیکٹ سے55 ہزار خاندانوں کے گھر میں چولہا جلنے لگا۔ پنجاب بھر میں46 سہولت بازاروں میں 9200 لوگوں کو باعزت روزگار مل گیا۔ سہولت بازارو ں میں ایک سال میں ساڑھے 8 کروڑ افراد نے ساڑھے 42کروڑ روپے کی خریداری کی۔ 46 سہولت بازاروں میں سبزیوں اور پھلوں سمیت 13 اشیائے خورد و نوش ہول سیل نرخ پر فراہم کئے گئے اور 11کروڑ روپے کی بچت ہوئی۔ وزیرآباد، چونیاں، جڑانوالہ، چنیوٹ، خانیوال، بھلوال، پتوکی، اوکاڑہ اور مظفرگڑھ میں سستی اور معیاری اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں۔  وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے مزید 30 نئے سہولت بازار 30 جون تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کر دیا۔ سہولت بازاروں کو بتدریج پنجاب کی ہر تحصیل میں قائم کرنے کے لئے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہاکہ سہولت بازاروں سے سستی اور معیاری اشیائے خورد ونوش کی آسان فراہمی ممکن ہوئی ہے۔ پنجاب کے ہر شہری کو سستی اور معیاری اشیاء مہیا کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سستی اور معیاری سہولت بازاروں معیاری اشیاء سہولت بازار

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا