اسپین میں ٹرین حادثے میں 21 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسپین میں پیش آنے والے ٹرین حادثے میں 21 افراد جاں بحق جبکہ 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسپین کے جنوبی علاقے میں ایک تیز رفتار ٹرین پٹری سے اتر کر مخالف سمت سے آنے والی ٹرین سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دوسری ٹرین بھی ڈی ریل ہو گئی۔ حادثے کے باعث دونوں ٹرینوں کو شدید نقصان پہنچا۔
حادثے میں 21 افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ زخمی ہونے والے 100 افراد میں سے 21 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ جاں بحق افراد میں میڈرڈ سے ہیولوا جانے والی ٹرین کا ڈرائیور بھی شامل ہے۔
حادثے کے وقت ایک ٹرین میں 300 سے زائد جبکہ دوسری میں تقریباً 100 مسافر سوار تھے۔ واقعے کے بعد ٹرین سروس عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے، جبکہ حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔