کراچی کے مصروف کاروباری علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ 35 گھنٹے بعد مکمل طور پر بجھا دی گئی ہے، تاہم عمارت میں کولنگ کا عمل اور محدود سرچ آپریشن تاحال جاری ہے۔

سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہوچکی ہے جبکہ 22 زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں، جس نے متاثرہ خاندانوں کی بے چینی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

جلی عمارت سے مزید لاشیں اور انسانی اعضا برآمد

ریسکیو حکام کے مطابق آگ بجھنے کے بعد جلی ہوئی عمارت سے مزید 4 افراد کی لاشیں نکالی گئیں، جبکہ ایک بچے سمیت 3 افراد کے انسانی اعضا بھی ملے ہیں، جنہیں سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔

چیف فائر آفیسر کے مطابق پلازہ میں کولنگ کا عمل جاری ہے، کٹر کی مدد سے کھڑکیاں کاٹی جا رہی ہیں اور ہتھوڑوں کے ذریعے دیواریں گرائی جا رہی ہیں تاکہ ممکنہ طور پر پھنسے افراد تک رسائی حاصل کی جا سکے۔

لاپتہ افراد کی تلاش، تھرمل کیمروں اور موبائل لوکیشنز کا استعمال

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ سے موبائل نمبرز حاصل کر لیے گئے ہیں اور 20 سے زائد موبائل فونز کی آخری لوکیشن گل پلازہ ہی ظاہر ہو رہی ہے۔ جائے حادثہ پر تھرمل کیمرے بھی نصب کیے گئے، جبکہ ریسکیو ورکرز نے جلی ہوئی دکانوں میں صدائیں لگا لگا کر زندگی کے آثار تلاش کرنے کی کوشش کی، مگر کوئی جواب نہ مل سکا۔

فائر فائٹرز 24 گھنٹے بعد عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب

عمارت کے مخدوش ہونے کے باعث ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل رہا۔ فائر فائٹرز 24 گھنٹے بعد اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے، جہاں محدود پیمانے پر سرچ آپریشن کیا گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق آگ ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ کے باعث لگی، جو تیزی سے گراؤنڈ اور فرسٹ فلور تک پھیل گئی۔ شدید دھویں کے باعث متعدد افراد بے ہوش ہو گئے تھے۔

عمارت انتہائی مخدوش، گرنے کا خدشہ برقرار

ریسکیو 1122 کے چیف آپریٹنگ آفیسر عابد جلال کے مطابق متاثرہ عمارت انتہائی پرانی ہے اور آگ کے باعث اس کے پلرز کمزور ہو چکے ہیں۔ عمارت کے 2 حصے منہدم ہو چکے ہیں جبکہ مزید گرنے کا خدشہ بھی موجود ہے، اسی وجہ سے مکمل سرچ آپریشن میں احتیاط برتی جا رہی ہے۔ ریسکیو اور فائر بریگیڈ کے 150 سے زائد اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف رہے۔

میئر کراچی کا مؤقف: فائر بریگیڈ وقت پر پہنچی

میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے گل پلازہ کا دوبارہ دورہ کرتے ہوئے کہا کہ ہفتے کی رات 10 بجکر 27 منٹ پر آگ لگنے کی کال موصول ہوئی اور 15 منٹ میں فائر بریگیڈ موقع پر پہنچ گئی، اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ فائر بریگیڈ تاخیر سے پہنچی۔

انہوں نے بتایا کہ رش کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات پیش آئیں، جبکہ عمارت کے پچھلے حصے سے بھی ریسکیو آپریشن کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کولنگ کا عمل کب مکمل ہوگا، اس بارے میں حتمی وقت نہیں دیا جا سکتا۔

عوامی احتجاج اور حکام کا ردعمل

جائے وقوعہ پر میئر کراچی کی آمد کے موقع پر متاثرین اور شہریوں نے میئر کراچی کے خلاف نعرے بازی کی۔ مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ عوام جذباتی ہیں اور وہ ان کے دکھ کو سمجھتے ہیں، تنقید ان کا حق ہے۔

گورنر سندھ کا بیان: لاپتہ افراد کا معاملہ بڑا المیہ

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے سانحے کو بڑا المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 70 سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی نہیں چاہتا کہ آگ لگے یا کسی کا کاروبار تباہ ہو، اصل ضرورت آگ لگنے کی وجوہات جاننے کی ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ نقصان کے ازالے تک متاثرین کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور معاوضے کے لیے سندھ اور وفاقی حکومت سے بات کریں گے۔

اربوں روپے کا نقصان، آج سوگ میں مارکیٹیں بند

صدر الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن رضوان عرفان نے سانحہ گل پلازہ پر دکانداروں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے آج سوگ کے طور پر مارکیٹیں بند رکھنے کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے اور کئی دکاندار اور ان کے ورکرز عمارت میں موجود تھے۔

ہیلپ لائن قائم، عوام سے تعاون کی اپیل

ضلعی انتظامیہ نے عوام کی سہولت کے لیے ہیلپ لائن قائم کر دی ہے۔ ڈی سی ساؤتھ جاوید نبی کے مطابق گمشدہ افراد یا معلومات کے لیے 0313-5048048، 021-99206372 اور 021-99205625 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

کراچی گل پلازہ آتشزدگی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کراچی گل پلازہ ا تشزدگی فائر بریگیڈ میئر کراچی گل پلازہ کے مطابق کا کہنا کے باعث کے لیے

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق