یورپی یونین کا امریکا کیساتھ تجارتی معاہدہ معطل کرنے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
یورپی یونین کا امریکا کیساتھ تجارتی معاہدہ معطل کرنے پر غور WhatsAppFacebookTwitter 0 19 January, 2026 سب نیوز
سٹاک ہوم: (آئی پی ایس) یورپی یونین نے امریکا کیساتھ تجارتی معاہدہ معطل کرنے پر غور شروع کر دیا۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گرین لینڈ کے معاملے نے امریکا اور اس کے یورپی اتحادیوں کے درمیان تجارتی تنازع کھڑا کر دیا ہے اور یورپ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے متعدد یورپی ملکوں پر ٹیرف لگانے پر جوابی اقدامات کی وارننگ دی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا متعدد یورپی ملکوں پر کسٹم ڈیوٹی لگائے گا، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات گرین لینڈ کی خریداری کا معاہدہ طے پانے تک جاری رہیں گے، اس خریداری کی وجہ انہوں نے امریکی اور عالمی قومی سلامتی کو درپیش خطرات بتائے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کیا تھا کہ واشنگٹن نے ڈنمارک، تمام یورپی یونین اور دیگر ملکوں کی کئی سالوں تک ڈیوٹی یا معاوضے کی کسی بھی شکل کے بغیر حمایت کی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ وہ اس کا بدلہ چکائیں کیونکہ عالمی امن داؤ پر ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ یکم فروری 2026ء سے مذکورہ ملکوں سے امریکا آنے والی تمام اشیاء پر 10 فیصد کسٹم ڈیوٹی لگائی جائے گی جسے یکم جون 2026 سے بڑھا کر 25 فیصد کر دیا جائے گا۔
انہوں نے زور دیا تھا کہ یہ ڈیوٹی اس وقت تک نافذ رہے گی جب تک گرین لینڈ کی مکمل خریداری کا معاہدہ نہیں ہو جاتا، انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکا 150 سال سے زائد عرصے سے گرین لینڈ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور جدید دفاعی نظام ’’ گولڈن ڈوم ‘‘ کی وجہ سے اس کی ضرورت انتہائی ناگزیر ہو چکی ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبر’گھر کا سرچ وارنٹ لیں، گرفتار کرکے پیش کریں‘، ایمان مزاری، ہادی علی کی عدم گرفتاری پر عدالت برہم ’گھر کا سرچ وارنٹ لیں، گرفتار کرکے پیش کریں‘، ایمان مزاری، ہادی علی کی عدم گرفتاری پر عدالت برہم روسی فوج سلاویانسک شہر سے 30 کلومیٹردور، یوکرین کے 1210 فوجی ہلاک کیرج 3 منصوبے کی بدعنوانی بے نقاب، وزیراعظم نے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا تیراہ آپریشن صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر بدمعاشی سے شروع کیا گیا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ پاک فضائیہ کا دستہ سپیئرز آف وکٹری-2026 میں شرکت کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: یورپی یونین
پڑھیں:
فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔
وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، ایسے اقدامات جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن وسلامتی اور استحکام کے لیے مملکت و عالمی برادری کےساتھ تعاون جاری رکھے گا، پاکستان بحیرہ احمر، آبنائےہرمز اور سمندری تجارت کی بلاتعطل روانی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
وزیراعظم نےخادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔
مزید :