ملک میں سونا ہزاروں روپے مہنگا ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ملک میں آج سونے کی فی تولہ قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق کاروباری ہفتے کے پہلے یعنی پیر کے روز ملکی صرافہ مارکیٹوں میں سونا مزید مہنگا ہو گیا، جس کے بعد سونے کی قیمتیں تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پیر کے روز ملک میں 24 قیراط کے حامل ایک تولہ سونا 7500 روپے مہنگا ہوا ہے، جس کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت 4 لاکھ 89 ہزار 362 روپے ہو گئی ہے، یہ اضافہ ایک ہی دن میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلی کے طور پر دیکھا جارہا ہے، جس سے عام صارفین کے لیے مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔
آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 6431 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 19 ہزار 549 روپے ہو گئی ہے، سونے کے نرخوں میں اس مسلسل اضافے نے شادیوں کے موسم میں زیورات کی خریداری کرنے والی خواتین اور خاندانوں کی پریشانی میں اضافہ کردیا ہے جبکہ مارکیٹ کے کئی دکانداروں کا کہنا ہے کہ گاہکوں کی آمد پہلے ہی کم تھی اور اب نئی قیمتیں صورتحال کو مزید متاثر کریں گی۔
دوسری جانب بین اقوامی مارکیٹ سونے کی قیمت 75 ڈالر سے برھ کر 4670 ڈالر فی اونس ہو گئی ہے۔
پاکستان میں چاندی کی فی تولہ قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد چاندی کی قیمت تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، فی تولہ چاندی کی قیمت 300 روپے کے اضافے کے بعد 9 ہزار 782 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 429 روپے بڑھ کر 8 ہزار 300 روپے ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 600 روپے کی کمی ہوئی تھی جبکہ عالمی منڈی میں سونا فی اونس 6 ڈالر سستا ہوا تھا۔۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی فی تولہ قیمت سونے کی قیمت ہو گئی ہے چاندی کی ملک میں کے بعد
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز