ہولی فیملی اسپتال: پارکنگ میں معمولی تنازع، سکیورٹی گارڈ کے مبینہ تشدد سے نوجوان جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال میں سکیورٹی گارڈ کے مبینہ تشدد کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ افسوسناک واقعہ اسپتال کی پارکنگ میں پیش آیا، جہاں معمولی تنازع نے سنگین صورت اختیار کرلی۔
والدہ کو چیک اپ کے لیے اسپتال لایا تھاپولیس کے مطابق جاں بحق نوجوان کی شناخت محمد وقار کے نام سے ہوئی ہے، جو اپنی والدہ کو میڈیکل چیک اپ کے لیے ہولی فیملی اسپتال لایا تھا۔ چیک اپ کے بعد واپسی کے دوران اسپتال کی پارکنگ میں سکیورٹی گارڈ سے اس کا تنازع ہوگیا۔
سکیورٹی گارڈ پر تشدد کا الزامایف آئی آر کے مطابق تنازع کے دوران سکیورٹی گارڈ نے محمد وقار پر مبینہ طور پر مکے اور لاتیں برسائیں۔ شدید تشدد کے باعث نوجوان کی طبیعت بگڑ گئی اور اسے دل کا دورہ پڑا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ افسوسناک واقعہ دو روز قبل ہولی فیملی اسپتال کی پارکنگ میں پیش آیا تھا، جس کی اطلاع ملنے پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ تھانہ نیو ٹاؤن میں درج کرلیا ہے اور نامزد سکیورٹی گارڈ کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اسپتالوں میں سکیورٹی انتظامات پر سوالاتواقعے کے بعد سرکاری اسپتالوں میں سکیورٹی اہلکاروں کے رویے اور تربیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ اسپتال جیسے حساس مقامات پر عوام خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی ہولی فیملی اسپتال سکیورٹی گارڈ میں سکیورٹی پارکنگ میں کے لیے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔