اسلام آباد(آئی این پی)وفاقی وزیربرائے ماحولیاتی تبدیلی  مصدق ملک نے کہا ہے کہ لوگوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ دیں گے تو پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چوہدری کیلئے   اس ملک میں بہت خوشحالی ہے، اس وقت ملک کی 99 فیصد کی طاقت اور 70 فیصد ملک کی دولت اس کمرے میں بیٹھی ہے اور سوال ہم چوہدری کے مزارعے کا پوچھ رہے ہیں وہ یہاں ہے ہی نہیں، خوشحالی کا طریقہ پیداواری صلاحیت میں اضافے ہے لیکن اس وقت ہوگی جب آپ لوگوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ دیں گے۔

سانحہ گل پلازہ کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت پاکستان کو ڈالر 12 فیصد شرح سود پر ملتا ہے لیکن 50 لوگوں کو 4 ارب ڈالر صفر شرح پر دے دیئے گئے، اب سوال پوچھا جاتا ہے کہ باقی لوگ غریب کیوں ہیں؟ 4 ارب ڈالر چھوٹی فیکٹریاں لگانے کے لیے نوجوانوں کو بھی تو دیئے جاسکتے تھے لیکن پاکستان میں خوشحالی کا راستہ صرف طاقت اور اثرو رسوخ تک رسائی بن چکا ہے۔

مصد ق ملک  کا کہناتھاکہ   برآمدات میں ترقی ہی پائیدار ترقی ہے، حکومتی کوششوں سے معاشی اعشاریے بہتر ہوئے ہیں، خوشحالی کا واحد راستہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہے، ماحول دوست معاشی ترقی وقت کا تقاضا ہے، ترقی تب آئے گی جب ہر شہری کو کام کے لیے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے، مخصوص طبقے کو سستی بجلی، گیس اور ٹیکس چھوٹ دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، ریاست کو اب کاروبار چلانے کے بجائے سہولت کار کا کردار ادا کرنا ہوگا، نجکاری کوئی نظریاتی منصوبہ نہیں بلکہ مارکیٹ کی خرابیوں کو درست کرنے کا طریقہ ہے۔

سعودی  شہزادہ بندر بن عبداللہ آل عبدالرحمن آل سعود  انتقال کرگئے

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود