گل پلازہ: ناقابل شناخت لاشوں اور اعضا ملنے کا سلسلہ جاری، کلیئر کرنے میں 17 دن تک لگ سکتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک سانحے کے بعد امدادی کارروائیاں بدستور جاری ہیں اور عمارت سے لاشیں ملنے کا سلسلہ تاحال رک نہیں سکا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور اب تک 21 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ واقعے کے کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود صورتحال بدستور سنگین ہے، جب کہ عمارت کے اندر پھنسے ممکنہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں انتہائی مشکل حالات میں اپنا کام انجام دے رہی ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق تقریباً 40 گھنٹے بعد ریسکیو اہلکار گل پلازہ کی عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے، جس کے بعد اندر موجود افراد کی تلاش کا باقاعدہ آپریشن شروع کیا گیا۔ عمارت کے اندر شدید اندھیرا، دھواں اور خطرناک حالات کے باعث ریسکیو اہلکار ٹارچوں کی مدد سے مختلف حصوں کی تلاشی لے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہر قدم انتہائی احتیاط کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے کیونکہ عمارت کا بڑا حصہ غیر محفوظ ہوچکا ہے۔
ریسکیو عملے نے بتایا کہ عمارت کے اندر سے لاشوں کے ساتھ ساتھ انسانی اعضا بھی نکالے جا رہے ہیں، جس سے سانحے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ملبے کے نیچے دبے افراد تک پہنچنا نہایت دشوار ثابت ہو رہا ہے، تاہم ٹیمیں مسلسل کوشش میں مصروف ہیں کہ کسی بھی ممکنہ زندہ شخص کو بروقت نکالا جا سکے۔ لاشوں کی برآمدگی کا عمل جاری ہے اور ہر گھنٹے کے ساتھ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان نے بتایا کہ اب تک ایک لاش مکمل حالت میں نکالی گئی ہے جب کہ باقی لاشیں صرف انسانی اعضا کی صورت میں ملی ہیں۔ ترجمان کے مطابق تمام لاشیں ناقابل شناخت ہیں جس کی وجہ سے شناخت کا عمل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ایدھی کے رضاکار دیگر اداروں کے ساتھ مل کر لاشوں کو نکالنے اور انہیں منتقل کرنے میں مصروف ہیں، جب کہ متاثرہ خاندانوں کی بے چینی اور کرب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
چیف فائر آفیسر نے صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گل پلازہ کا موجودہ ڈھانچہ انتہائی خطرناک ہو چکا ہے اور کسی بھی وقت مزید نقصان کا خدشہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملبہ مکمل طور پر کلیئر کرنے میں 15 سے 17 دن لگ سکتے ہیں، کیونکہ ہر مرحلہ جانچ پڑتال اور حفاظتی اقدامات کے تحت انجام دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے، اسی لیے کارروائی میں جلد بازی سے گریز کیا جا رہا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق کولنگ اور سرچ آپریشن ساتھ ساتھ جاری ہیں تاکہ آگ کے ممکنہ دوبارہ بھڑکنے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔ متاثرہ علاقے میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ جب تک عمارت کے تمام حصوں کی مکمل تلاشی نہیں لے لی جاتی، ریسکیو آپریشن جاری رہے گا۔ دوسری جانب متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی ایک خبر کے انتظار میں ہیں اور ہر نئی لاش ملنے پر ان کا دکھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عمارت کے اندر جا رہا ہے کے مطابق گل پلازہ کے ساتھ ہے اور
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم