data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک سانحے کے بعد امدادی کارروائیاں بدستور جاری ہیں اور عمارت سے لاشیں ملنے کا سلسلہ تاحال رک نہیں سکا۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور اب تک 21 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔ واقعے کے کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود صورتحال بدستور سنگین ہے، جب کہ عمارت کے اندر پھنسے ممکنہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں انتہائی مشکل حالات میں اپنا کام انجام دے رہی ہیں۔

ریسکیو حکام کے مطابق تقریباً 40 گھنٹے بعد ریسکیو اہلکار گل پلازہ کی عمارت کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوئے، جس کے بعد اندر موجود افراد کی تلاش کا باقاعدہ آپریشن شروع کیا گیا۔ عمارت کے اندر شدید اندھیرا، دھواں اور خطرناک حالات کے باعث ریسکیو اہلکار ٹارچوں کی مدد سے مختلف حصوں کی تلاشی لے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہر قدم انتہائی احتیاط کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے کیونکہ عمارت کا بڑا حصہ غیر محفوظ ہوچکا ہے۔

ریسکیو عملے نے بتایا کہ عمارت کے اندر سے لاشوں کے ساتھ ساتھ انسانی اعضا بھی نکالے جا رہے ہیں، جس سے سانحے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ملبے کے نیچے دبے افراد تک پہنچنا نہایت دشوار ثابت ہو رہا ہے، تاہم ٹیمیں مسلسل کوشش میں مصروف ہیں کہ کسی بھی ممکنہ زندہ شخص کو بروقت نکالا جا سکے۔ لاشوں کی برآمدگی کا عمل جاری ہے اور ہر گھنٹے کے ساتھ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان نے بتایا کہ اب تک ایک لاش مکمل حالت میں نکالی گئی ہے جب کہ باقی لاشیں صرف انسانی اعضا کی صورت میں ملی ہیں۔ ترجمان کے مطابق تمام لاشیں ناقابل شناخت ہیں جس کی وجہ سے شناخت کا عمل مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ ایدھی کے رضاکار دیگر اداروں کے ساتھ مل کر لاشوں کو نکالنے اور انہیں منتقل کرنے میں مصروف ہیں، جب کہ متاثرہ خاندانوں کی بے چینی اور کرب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

چیف فائر آفیسر نے صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گل پلازہ کا موجودہ ڈھانچہ انتہائی خطرناک ہو چکا ہے اور کسی بھی وقت مزید نقصان کا خدشہ موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملبہ مکمل طور پر کلیئر کرنے میں 15 سے 17 دن لگ سکتے ہیں، کیونکہ ہر مرحلہ جانچ پڑتال اور حفاظتی اقدامات کے تحت انجام دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے، اسی لیے کارروائی میں جلد بازی سے گریز کیا جا رہا ہے۔

ریسکیو حکام کے مطابق کولنگ اور سرچ آپریشن ساتھ ساتھ جاری ہیں تاکہ آگ کے ممکنہ دوبارہ بھڑکنے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔ متاثرہ علاقے میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جب تک عمارت کے تمام حصوں کی مکمل تلاشی نہیں لے لی جاتی، ریسکیو آپریشن جاری رہے گا۔ دوسری جانب متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی ایک خبر کے انتظار میں ہیں اور ہر نئی لاش ملنے پر ان کا دکھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: عمارت کے اندر جا رہا ہے کے مطابق گل پلازہ کے ساتھ ہے اور

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان