شزہ فاطمہ اور شرمیلا فاروقی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں ترمیم پر تکرار
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
فائل فوٹوز
وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ اور پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں ترمیم پر تکرار ہوگئی۔
امین الحق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں ترمیم پر غور کیا گیا۔
اس موقع پر چیئرمین کمیٹی امین الحق نے کہا کہ ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں اچھی ترامیم لائی جارہی ہیں، جمہوری طریقہ کار ہے کہ ایوان کو ساتھ لے کر چلیں، ارکان کا کہنا ہے کہ اس بل سے متعلق ان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
شرمیلا فاروقی نے شکوہ کیا کہ حکومت نے پیپلزپارٹی کی قانون ساز کمیٹی سے یہ بل ڈسکس نہیں کیا۔
جس پر شزہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ اس بل پر آئی ایم ایف کی وجہ سے جلدی ہے، ایس او ای کی وجہ سے آئی ایم ایف کی کمپلائنس پر عملدرآمد ضروری ہے۔
شرمیلا فاروقی نے کہا کہ اگر پارٹی کی قانون ساز کمیٹی سے منظور ہوجاتا ہے تو ہمیں ایشو نہیں، رائٹ آف وے کے حوالے سے ترمیم تمام قوانین کو اوور رائٹ کررہی ہے۔
وزیر آئی ٹی نے جواب دیا کہ ہم بل کو ریڈ ڈاؤن کرلیتے ہیں تاکہ وقت کی بچت ہو، تمام صوبوں نے رائٹ آف وے چارجز ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
وزارت قانون کے حکام نے بتایا کہ یہ ایک اسپیشل قانون ہے، جس کے تحت یہ لکھا گیا ہے۔
رکن پیپلز پارٹی نے کہا کہ نئی ترمیم کے تحت 22 دنوں میں منظور ہو جائے گی، رائٹ آف وے کے لیے کیا تمام قوانین کو سپر سیڈ کر لیا جائے گا، اس کا مطلب ہے اگر ماحولیات کو نقصان پہنچایا جائے تو کوئی قانون لاگو نہیں ہوگا، کوئی بھی ہیریٹیج سائٹ ہوگی اس کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ اگر زمین کا مالک 21 دن میں جواب نہ دے تو فیصلہ ہوجائے گا، زمین کے اونر کو ایک بار نوٹس دے کر سماعت کا موقع دینا چاہیے۔
شزہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ اس ترمیم میں لکھا ہے کہ لائسنس کنندہ کو اس سائٹ کو اصل حالت میں بحال کرنا ہوگا، 98 فیصد لوگ موبائل پر براڈبینڈ چلاتے ہیں، فائبرائزیشن نہیں ہورہی کیونکہ ہر اونر اپنا مسئلہ بنا کر بیٹھا ہوا ہے، اگر یہی صورتحال رہی تو نہ فائیو جی چلے گا نہ انٹرنیٹ چلے گا، ہمیں ہر صورت میں فائبرائزیشن کی راہ میں رکاوٹیں دور کرنی چاہیں۔
شرمیلا فاروقی نے کہا کہ ہمیں شہریوں کے آئینی حقوق کو پامال نہیں کرنا چاہیے جس پر شزہ فاطمہ نے جواب دیا کہ کسی شہری کا کوئی آئینی حق پامال نہیں ہورہا۔
شرمیلا فاروقی نے اجلاس میں سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ منیجنگ ڈائریکٹر جب تعینات کیا جائے تین سال تک عہدے سے ہٹایا نہیں جاسکتا، یہ کیسے ممکن ہے اگر ایک ایم ڈی تین سال تک ہٹایا نہیں جاسکتا۔
شزہ فاطمہ نے جواب دیا کہ ایس او ای ایکٹ کے تحت یہ مجبوری بن گیا ہے، مجھے بھی اس پر شدید تحفظات ہیں، آئی ایم ایف کی وجہ سے یہ مجبوری ہے، نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کے تین آزاد ممبرز ہوں گے۔
پیپلز پارٹی کی رہنما نے کہا کہ ان ترامیم میں وفاقی کابینہ کو ہٹا کر وزیراعظم لکھا گیا ہے، جس پر شزہ فاطمہ نے کہا کہ یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ ہر چیز وفاقی کابینہ کے پاس جا رہی تھی، وزارت آئی ٹی کے ایک ایک ادارے کے سربراہ کی تقرری رکی ہوتی ہے۔
دونوں رہنما کی تکرار کے بعد چیئرمین کمیٹی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں ترامیم کا بل مؤخر کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ کی قانون ساز کمیٹی پیپلز پارٹی کی قانون ساز کمیٹی سے مشاورت کرے گی۔
شزہ فاطمہ نے کہا کہ ہماری طرف سے اعظم نذیر تارڑ نوید قمر کیساتھ ڈسکس کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کی قانون ساز کمیٹی شرمیلا فاروقی نے شزہ فاطمہ نے پیپلز پارٹی نے کہا کہ پارٹی کی گیا ہے
پڑھیں:
جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
سٹی 42: علیمہ خانم نے فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے
علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔
جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔
بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔
افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،
ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز