گل پلازا سانحہ: لاپتہ افراد کے اہلخانہ سول اسپتال سے رابطہ کریں، پولیس سرجن
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
فوٹو: آن لائن
کراچی کے گل پلازہ سانحے میں لاپتہ افراد کی شناخت کیلئے پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے لواحقین سے اپیل کی ہے۔
کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر گل پلازہ میں لگنے والی آگ 33 گھنٹے گزرنے کے بعد مکمل طور پر بجھا دی گئی، جلی ہوئی عمارت کے ملبے سے مزید 2 لاشیں نکال لی گئی ہیں، آگ سے جاں بحق افراد کی تعداد 26 ہوگئی جبکہ 22 زخمی زیر علاج ہیں۔
گل پلازا کے دورے کے بعد میئر کراچی قریب موجود ڈی سی آفس چلے گئے، ڈی سی آفس کے باہر بھی شہریوں نے احتجاج کیا۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا کہ لاپتا افراد کے اہلِ خانہ سول اسپتال کراچی سے فوری رابطہ کریں اور مردہ خانے میں اپنا ڈیٹا جمع کروائیں۔
ڈاکٹر سمعیہ سید نے کہا کہ والد، والدہ یا بچوں سے ڈی این اے نمونے حاصل کیے جائیں گے، جبکہ بہن بھائی بھی ڈیٹا اور نمونوں کا اندراج کروا سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔