اوپن اے آئی نے چیٹ جی پی ٹی میں اشتہارات کی نئی حکمت عملی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی معروف کمپنی اوپن اے آئی نے اپنے مقبول چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی میں اشتہارات کے نفاذ کے لیے نئی حکمت عملی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت مفت صارفین کو چیٹ کے دوران مخصوص اشتہارات دکھائے جائیں گے۔
اوپن اے آئی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ اشتہارات صارف کی حالیہ گفتگو اور دلچسپیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ذاتی نوعیت کے ہوں گے، تاہم صارف کی پرائیویسی کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔
کمپنی نے واضح کیا ہے کہ اشتہارات ہمیشہ چیٹ کے جوابات کے نیچے ظاہر ہوں گے اور انہیں واضح طور پر “اشتہار” کے طور پر نشان زد کیا جائے گا۔ حساس موضوعات جیسے صحت، ذہنی صحت یا سیاست سے متعلق کوئی اشتہار صارف کو نہیں دکھایا جائے گا، نیز ایسا بھی نہیں ہوگا کہ صارف کی عمر یا ذاتی معلومات کے لیے کوئی الگ سسٹم استعمال کیا جائے۔
اوپن اے آئی نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ صارفین کی گفتگو کسی اشتہاری کمپنی کو فروخت نہیں کی جائے گی اور یہ ڈیٹا کسی بیرونی ادارے تک منتقل نہیں ہوگا۔
اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ صارفین کو اختیار ہوگا کہ وہ اشتہار کی پرسنلائزیشن کو بند کریں اور اشتہارات کے لیے استعمال ہونے والے ڈیٹا کو مکمل طور پر کلیئر کر سکیں، یہ اقدام چیٹ جی پی ٹی گو کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے ساتھ کیا گیا ہے تاکہ مفت صارفین بھی جدید تجربہ حاصل کر سکیں۔
پاکستان میں یہ سبسکرپشن پلان پہلے سے دستیاب ہے، لیکن اب اسے دنیا بھر میں پیش کیا جا رہا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی گو کا سبسکرپشن پلان ماہانہ 8 ڈالرز پر دستیاب ہے، جو کہ کمپنی کا اب تک کا سب سے کم قیمت والا سبسکرپشن پلان ہے، جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ صارفین کو جدید اے آئی ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چیٹ جی پی ٹی اوپن اے اے آئی
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ