یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت سینیٹ کا اجلاس، متعدد اہم بلز پیش اور منظور
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت سینیٹ کا اجلاس، متعدد اہم بلز پیش اور منظور WhatsAppFacebookTwitter 0 19 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )اسلام آباد میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں قانون سازی کے عمل کے تحت متعدد اہم بلز پیش کیے گئے جبکہ کئی بلز کی منظوری بھی دی گئی۔اجلاس میں مسلم فیملی لاز ترمیمی بل سینیٹر سرمد علی نے پیش کیا، جسے مزید غور و خوض کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
اسی طرح انتخابات ترمیمی بل 2026 ڈاکٹرزرکا سہروردی نے ایوان میں پیش کیا، تاہم حکومت کی جانب سے بل کی مخالفت کی گئی۔ ڈاکٹر زرکا سہروردی کی درخواست پر یہ بل بھی متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے دی نیشنل پاپولیشن کوآرڈینیشن اینڈ ری پروڈکٹیو ہیلتھ بل 2026 پیش کیا، جسے چیئرمین سینیٹ نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی ہدایت دی۔سینیٹر افنان اللہ کی جانب سے پیش کیا گیا انضباط ورچوئل اثاثہ جات بل بھی قائمہ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا۔
اجلاس کے دوران انسداد اسمگلنگ تارکینِ وطن ترمیمی بل 2024 سینیٹ سے منظور کر لیا گیا، جو سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے پیش کیا تھا۔اسی طرح صوبائی موٹر گاڑیاں ترمیمی بل 2025 بھی ایوان نے منظور کر لیا۔سینیٹر سعدیہ عباسی نے دارالحکومت اسلام آباد میں بچوں کو جسمانی سزاں کی ممانعت سے متعلق بل واپس لے لیا۔ بل بچوں کو جسمانی سزاں کی ممانعت سے متعلق تھا۔اجلاس میں مزید مجموعہ تعزیراتِ پاکستان ترمیمی بل 2025، فوجداری قوانین ترمیمی بل 2024 اور ذہنی صحت ترمیمی بل 2025 بھی منظور کر لیے گئے، جنہیں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے ایوان میں پیش کیا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجعلی دستاویزات کی تیاری،سینئر سول جج گرفتار،مرکزی ملزم کی نشاندہی جعلی دستاویزات کی تیاری،سینئر سول جج گرفتار،مرکزی ملزم کی نشاندہی روسی فوج سلاویانسک شہر سے 30 کلومیٹردور، یوکرین کے 1210 فوجی ہلاک پنجاب، مدارس کے نظام میں عدم مداخلت اور نصاب تبدیل نہ کرنے کی یقین دہانی تیراہ آپریشن صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر شروع کیا گیا، وزیراعلی نوبیل نہیں دیا گیا،خود کو اب امن کا پابند نہیں سمجھا ،ٹرمپ کی یورپ کو دھمکی ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور تعاون پر زورCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔