برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلۂ خیال
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاکستان اور برطانیہ کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
مزید پڑھیں: اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال
دونوں فریقین نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط اور باقاعدہ تبادلوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے انہیں دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔ اس موقع پر خطے کی صورتحال اور عالمی سطح پر حالیہ بین الاقوامی پیش رفت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
مزید پڑھیں: صومالی لینڈ میں اسرائیلی وزیر خارجہ کا دورہ تشویشناک ہے، اسحاق ڈار
ملاقات میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے اور مشترکہ مفادات کے فروغ کے لیے قریبی رابطے برقرار رکھیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برطانیہ برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ ہائی کمشنر جین میریٹ وزیر خارجہ اسحاق ڈار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانیہ برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ ہائی کمشنر جین میریٹ وزیر خارجہ اسحاق ڈار ہائی کمشنر جین میریٹ اسحاق ڈار
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔