خیبرپختونخوا میں اربوں روپے کی کرپشن، شیر افضل مروت ہوشربا حقائق سامنے لے آئے
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
سینیئر سیاستدان و ممبر قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے خیبرپختونخوا میں ہونے والی کرپشن پر سوالات اٹھا دیے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر ایک بیان میں انہوں نے نام لیے بغیر خیبرپختونخوا کے ایک سینیئر بیوروکریٹ پر کرپشن کے الزامات عائد کیے ہیں۔
:
“ریکارڈ توڑ کرپشن، خاموش ریاست،
کے پی میں تعینات ایک سینئر بیوروکریٹ نے گزشتہ دس برسوں میں کرپشن کے وہ ریکارڈ توڑے ہیں جن پر بڑے بڑے مافیا بھی رشک کریں۔ اندازہ لگائیے—
الزامات کے مطابق ہزار ارب روپے سے زائد اثاثے،
اور نظام؟ مکمل خاموش۔
ایک سال قبل، مبینہ طور پر اپنے فرنٹ مین…
— Sher Afzal Khan Marwat (@sherafzalmarwat) January 18, 2026
شیر افضل مروت نے کہاکہ اس بیوروکریٹ نے گزشتہ 10 سال کے دوران بڑے بڑے ریکارڈ توڑتے ہوئے ہزار ارب روپے سے زیادہ کے اثاثے جمع کرلیے ہیں، لیکن متعلقہ نظام خاموش ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایک سال قبل مبینہ طور پر اس بیوروکریٹ نے اپنے فرنٹ مین اسامہ کے ذریعے مہمند میں نیف رائٹ (Nephrite) کی ایک وسیع کان ڈی آئی خان کی ایک خاتون سے زبردستی حاصل کر لی تھی۔ شیر افضل مروت کے مطابق آج یہ کان ایک ارب روپے مالیت کی اے ٹی ایم مشین بن چکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اسی افسر نے پھندو کے قریب 5 ہزار کنال زمین خرید لی ہے اور منصوبہ ہے کہ اسے پی ڈی اے کے خرچ پر ڈیولپ کیا جائے، یعنی زمین ذاتی لیکن ترقی عوامی وسائل سے ہو۔
’قریباً ہر کنسلٹنٹ کو اعتراضات ختم کرنے کے لیے ادائیگی پر مجبور کیا جاتا ہے، جس کے بعد فائلیں صاف اور نظام شفاف دکھایا جاتا ہے۔‘
شیر افضل مروت نے کہاکہ جلد تمام دستاویزی ثبوت قوم کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس وقت کسی کا نام نہیں لیا جا رہا اور نہ ہی کوئی فیصلہ سنایا گیا ہے، بلکہ فیصلے حقائق کی بنیاد پر ہوں گے۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں ماحولیات اور جنگلات کے نظام میں بڑی اصلاحات، وزیراعلیٰ مریم نواز کا کرپشن فری ڈیجیٹل سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ
انہوں نے کہاکہ اگر یہ تمام الزامات درست ثابت ہوئے تو کیا احتساب عمل میں آئے گا، یا پھر یہ معاملات ہمیشہ کی طرح فائلوں میں دفن کر دیے جائیں گے؟
شیر افضل مروت نے مزید کہاکہ جب ثبوت بولتے ہیں تو عہدے خاموش ہو جاتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews حقائق خیبرپختونخوا شیر افضل مروت کرپشن وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا شیر افضل مروت وی نیوز شیر افضل مروت نے انہوں نے نے کہاکہ
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔