میڈم نور جہاں کا گانا کئی دہائیوں بعد بھارت میں مقبول کیوں ہورہا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
بھارتی ’جین زی‘ کے سوشل میڈیا ٹائم لائن پر آج کل پاکستان کی لیجنڈری گلوکاری میڈم نور جہاں کا گیت ’سانوں نہر والے پل تے بلا کے‘ ٹرینڈ کررہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ موسیقی کسی سرحد کی محتاج نہیں ہوتی۔
فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر آج کل میڈیم نور جہاں کا مشہور گیت ٹرینڈ کررہا ہے جو انہوں نے کئی دہائیوں پہلے ریکارڈ کیا تھا۔
میڈیم نور جہاں کا مشہور زمانہ گیت ’سانوں نہر والے پل تے بلا کے‘، زیادہ تر بھارت کے ’جین زی‘ اکاؤنٹس پر ریل کی صورت میں دکھائی دے رہا ہے اور بھارتی نوجوان اپنی مختلف ریلیز میں اس گانے کا استعمال کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ گانا تقریباً 5 دہائیاں قبل ریکارڈ کیا گیا تھا لیکن میڈیم نور جہاں کی آواز اور اس گیت کے گہرے الفاظ نے نئی نسل کے دل جیت لیے ہیں۔
اس گانے کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انسٹاگرام پر محض 43 سیکنڈ کے ایک کلپ پر ایک لاکھ سے زیادہ ریلز بن چکی ہیں۔
’پٹیالہ محفل‘ نامی ایک گروپ کی جانب سے اس گانے کی ویڈیو پوسٹ کیے جانے کے بعد اسے کروڑوں ویوز ملے جب کہ نوجوان نسل اس گانے کے بول کو اپنے زندگی سے جوڑ رہی ہے جہاں انہیں اپنی ساتھی کو ڈیٹ کرنے کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔.
صارفین نے اس کی وضاحت کچھ یوں کی کہ ’ گانے کے بول ’سانوں نہر والے پل تے بلا کے، تے خورے ماہی کتھے رہ گیا‘، یعنی آج جب ہم سے کوئی وعدہ کرکے غائب ہوجاتا ہے یا ہمیں اگنور کررہا ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ یہ گانا پہلی مرتبہ 14 ستمبر 1973 کو ریلیز ہونے والی پاکستانی پنجابی فلم ’دکھ سجناں دے‘ میں شامل کیا گیا تھا جب کہ یہ گیت میڈم نور جہاں کے البم ’سیونی میرا ماہی‘ میں بھی شامل ہوا جو ان کی وفات کے ایک سال بعد ریلیز ہوا تھا۔
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل نور جہاں کا اس گانے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :