کراچی، فائر سیفٹی آڈٹ میں سنگین خامیاں سامنے آگئیں، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
کراچی میں فائر سیفٹی آڈٹ میں سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں، رپورٹ میں اندیشہ ظاہر کیا گیا کہ خامیوں پر توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں بھی واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔
کراچی کے شاپنگ پلازوں میں آتشزدگی کے واقعات میں کئی سو افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، محکمہ فائر بریگیڈ نے 2 سال پہلے بڑی عمارتوں میں فائر سیفٹی آڈٹ کیا تھا۔
آڈٹ رپورٹ میں بیشتر بلند عمارتوں اور کاروباری مراکز میں اسٹینڈرڈ فائر سیفٹی نہ ہونے کا انکشاف ہوا۔
رپورٹ کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی نے فائر سیفٹی آڈٹ 2023ء کیا، جس کی رپورٹ یکم جنوری 2024ء کو کمشنر کراچی کو بھجوائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق شارع فیصل، آئی آئی چندریگر روڈ، طارق روڈ اور شاہراہ قائدین کی عمارتوں کا آڈٹ کیا گیا۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر شہر کی 235 سے زائد عمارتوں کا سروے کیا گیا، فائر سیفٹی آڈٹ کے دوران سنگین خامیاں سامنے آئیں۔
رپورٹ میں واضح طور پر بتایا گیا کہ سروے کے دوران سامنے آنے والی خامیوں پر توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں ایسے واقعات ہوسکتے ہیں۔
آڈٹ رپورٹ میں عمارتوں کے مالکان اور مکینوں کو فائر سیفٹی اقدامات کو یقینی بنانے کےلیے متعلقہ اداروں کو ہدایات دی گئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: رپورٹ میں
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔