مغرب سے سرد ہواؤں کا سسٹم پنجاب میں کب داخل ہو گا؟ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کر دی
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
لاہور:
محکمہ موسمیات کے مطابق مغرب سے سرد ہواؤں کا ایک نیا سسٹم پنجاب میں داخل ہونے جا رہا ہے، جس کے باعث لاہور سمیت صوبے بھر میں شدید سردی اور دھند کا راج بدستور قائم رہے گا۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آج اور کل پنجاب بھر میں موسم مجموعی طور پر خشک اور سرد رہے گا، تاہم 20 سے 23 جنوری کے دوران مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں شدید برفباری اور بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بھی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق متوقع خراب موسم کے پیش نظر حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں اور لوکل گورنمنٹ، محکمہ صحت، ریسکیو 1122، پولیس، فاریسٹ، سی اینڈ ڈبلیو، ٹورازم اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے ہدایت کی ہے کہ تمام اضلاع میں ایمرجنسی کنٹرول رومز کے عملے کو 24 گھنٹے الرٹ رکھا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔
انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ خراب موسم کی صورتحال میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 4.
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ سیاحوں کی سہولت کے لیے مری کے مختلف مقامات پر فسیلیٹیشن سینٹرز قائم کیے گئے ہیں تاکہ برفباری کے دوران سیاحوں کو رہنمائی اور مدد فراہم کی جا سکے۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں شہری پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر فوری رابطہ کر سکتے ہیں۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل محکمہ موسمیات پی ڈی ایم اے کے مطابق
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور