data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دنیا بھر میں اپنی حیرت انگیز اور اکثر درست ثابت ہونے والی پیش گوئیوں کے باعث مشہور بابا وانگا کی ایک پیش گوئی آج کے ڈیجیٹل دور میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بابا وانگا نے دہائیوں قبل یہ عندیہ دیا تھا کہ مستقبل میں انسان روزمرہ زندگی کے بیشتر معاملات کے لیے چھوٹے الیکٹرانک آلات پر انحصار کرنے لگیں گے، جو نہ صرف سہولت فراہم کریں گے بلکہ انسانی تعلقات کی نوعیت کو بھی بدل ڈالیں گے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بابا وانگا کی اس پیش گوئی کو اس وقت زیادہ اہمیت نہیں دی گئی، تاہم آج کے دور میں اسمارٹ فونز، ٹیبلٹس اور دیگر ڈیجیٹل آلات کی بڑھتی ہوئی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت بن چکی ہے۔ بچے ہوں یا بزرگ، ہر عمر کے افراد ان آلات کے ذریعے نہ صرف کام کرتے ہیں بلکہ تفریح، تعلیم اور سماجی روابط کے لیے بھی انہی پر انحصار کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے بلاشبہ معیارِ زندگی کو بہتر بنایا ہے، تاہم بابا وانگا نے اس کے منفی پہلو کی بھی نشاندہی کی تھی۔ انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ جیسے جیسے انسان ٹیکنالوجی کے قریب ہوتا جائے گا، ویسے ویسے حقیقی انسانی تعلقات سے دوری بڑھتی چلی جائے گی، جس کے اثرات ذہنی صحت پر مرتب ہوں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آج یہ خدشات درست ثابت ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اسکرین ٹائم میں بے تحاشا اضافے کے باعث افراد میں تنہائی، بے چینی اور توجہ کی کمی جیسے مسائل عام ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں میں اسمارٹ فونز کی لت ایک سنگین مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جو مستقبل میں بڑے سماجی چیلنجز کو جنم دے سکتی ہے۔

نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی ایک تحقیق کے مطابق بڑی تعداد میں بچے سونے سے قبل بستر میں اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، جس سے نہ صرف نیند متاثر ہوتی ہے بلکہ ذہنی اور جسمانی نشوونما پر بھی منفی اثرات پڑتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکرین کے حد سے زیادہ استعمال کو ڈپریشن، بے چینی اور سماجی تنہائی جیسے مسائل سے جوڑا جا رہا ہے۔

بابا وانگا کو تاریخ میں اس لیے بھی یاد رکھا جاتا ہے کہ ان کی کئی پیش گوئیاں وقت گزرنے کے ساتھ درست ثابت ہوئیں، جن میں دوسری جنگ عظیم، 11 ستمبر کے واقعات اور 2004 کے سونامی جیسے بڑے عالمی حادثات شامل ہیں۔

آج ٹیکنالوجی کے حوالے سے ان کی بصیرت کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس نے دنیا کو حیرت میں مبتلا کر رکھا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بابا وانگا کے مطابق پیش گوئی

پڑھیں:

ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا

ارب پتی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم گروک امیجن (Grok Imagine) رواں سال کے اختتام سے پہلے قدیم یونانی رزمیہ شاہکار اوڈیسی پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ فلم شاعر ہومر کی اصل تخلیق کے مطابق ہوگی اور تاریخی اعتبار سے بھی زیادہ درست انداز میں پیش کی جائے گی۔

ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی یہ فلم ہومر کے اصل فن اور کہانی کی حقیقی روح کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ تقریباً تین منٹ طویل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر دکھایا گیا ہے۔

Before this year ends, Grok Imagine will make a full-length movie of The Odyssey that is historically accurate and true to the art of Homer https://t.co/bVHzUmY9WN

— Elon Musk (@elonmusk) July 22, 2026

اس سے قبل بھی ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے اوڈیسی پر ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’میں تیار ہوں۔‘

دوسری جانب ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن کی فلم اوڈیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ نولن نے ایوارڈز حاصل کرنے کی غرض سے اصل داستان میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض اٹھایا، خاص طور پر اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں لینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک موقع پر نولن کو ’نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا‘ فلم ساز بھی قرار دیا۔

تاہم ایلون مسک کی تنقید کے باوجود کرسٹوفر نولن کی اوڈیسی نے باکس آفس پر شاندار آغاز کیا ہے۔ باکس آفس رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا، جس کے بعد اسے رواں برس کی نمایاں کامیاب فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ