پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں خارج
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2026 GMT
اسلام آباد:انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 26 نومبر احتجاج، سنگجانی جلسہ کیس اور دیگر 8 مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں خارج کر دیں، ان درخواستوں میں عمر ایوب سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں کے معاملات شامل تھے۔
عدالت نے زرتاج گل کے 7 مقدمات اور شبلی فراز و عالیہ حمزہ کے 5 سے زائد کیسز میں بھی ضمانت کی درخواستیں مسترد کیں۔ ساتھ ہی تمام ملزمان کی حاضری معافی کی درخواستیں بھی خارج کر دی گئیں۔ عدالت نے ملزمان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف ملک کے مختلف 5 سے زائد تھانوں میں مقدمات درج ہیں، جن میں احتجاجی مظاہرے، جلسے اور دیگر سیاسی سرگرمیوں سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کی درخواستیں
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔