گلبدین حکمت یار ایک نرم ہدف
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گلبدین حکمت یار ایک نرم ہدف ہے اوپر سے آج کل افغانوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا اور بھی آسان ہے اپنے ملک میں طاقتور کے آگے گھگھیانے اور چپ رہنے والے گلبدین کی تضحیک کر رہے ہیں حکمت یار بھی انسان ہے خامیوں سے مبراء نہیں نوے کی دہائی میں ہونے والی خانہ جنگی کا واحد ذمے دار اسے قرار دیکر حقائق سے آنکھیں چرائی جاتی ہیں مسعود ربانی سیاف مجددی اور دوستم اس میں بھرپور طریقے سے شامل تھے اور یہ سارے کے سارے متفق تھے کہ کابل حکمت یار کے حوالے نہیں کرنا ہے اسے بزور طاقت روکنا ہے حالانکہ حکمت یار کا مؤقف یہ تھا کہ کابل کا کنٹرول وہاں موجود تمام مزاحمتی تنظیموں کی میدانی قیادت کے سپرد کیا جائے ایک متفقہ شوریٰ ہو جو اگلے چھے ماہ یا سال میں انتخابات کرائے بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا اور جہاں اس کی افغان قیادت ذمے دار تھی وہاں اسلام آباد ریاض اور واشنگٹن بھی ایک صفحے پہ تھے کہ کابل میں اسلامی حکومت نہیں بننے دی جائے گی اور مغرب کے ساتھ روس بھی اس منصوبے سے مکمل اتفاق رکھتا تھا اس سب کے باوجود اس خانہ جنگی کی حمایت نہیں کی جاسکتی کہ بہرحال وہ غلطی ہی تھی مگر اس یاد دہانی کے ساتھ کہ سارا ملبہ حکمت یار پہ ڈالنا بھی غلطی ہی ہے۔ گلبدین حکمت یار نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کی۔ رونالڈ ریگن امریکا کے صدر تھے حکمت یار سے ان کے نمائندہ خصوصی اور بعض اطلاعات کے مطابق صاحبزادی نے
ریگن کا پیغام پہنچا کر آمادہ کرنے کی کوشش کی صدر ریگن سے دیگر افغان قیادت کے ہمراہ ملاقات کریں حکمت یار نے یہ پیشکش مسترد کردی اور اسلام آباد لوٹ گیا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر سے ملاقات کے لیے آج بھی کون کون کیسے تڑپتا ہے سب جانتے ہیں!
موجودہ افغان حکام نے قندھار سے کابل کی طرف سفر شروع کیا تو چہار آسیاب اور سروبی وغیرہ میں حکمت یار کے دستوں سے جھڑپیں ہوئی مگر جلد ہی حکمت یار نے پسپائی اختیار کی اور خود کو اس جنگ سے نکال کر ایران کا رخ کیا یہ چھیانوے کے ابتدائی ایام تھے ، گلبدین حکمت یار کی لڑائی مسعود و ربانی اور ان کے اتحادیوں سے تھی حکمت یار راستے سے ہٹ گیا اور موجودہ حکام نے حکمت یار کی جگہ لے لی اور ان کی جنگ بھی مسعود ربانی دوستم اور سیاف سے ہونے لگی افغان خانہ جنگی میں عربوں کے مختلف مؤقف تھے، مثلاً شیخ اسامہ اور ساتھی یہ کہہ کر علٰیحدہ ہوگئے کہ یہ مسلمانوں کی باہمی جنگ اور فساد ہے جبکہ عربوں کا دوسرا گروہ حکمت یار کے ساتھ یہ کہہ کر کھڑا ہوگیا مسعود و ربانی کے مقابل حکمت یار حق پہ ہے دلچسپ پہلو یہ ہی کہ محض پانچ سال کے فرق سے شیخ اسامہ اور ساتھی ملا عمر کی صفوں میں احمد شاہ مسعود برھان الدین ربانی عبد الرشید دوستم اور عبد الرب رسول سیاف کے مقابل کھڑے تھے جیسا کہ کبھی حکمت یار تھا۔
یہ گلبدین حکمت یار کے مراکز تھے جہاں مقبوضہ وادی کے نوجوانوں کو ابتدائی عسکری تربیت فراہم کی گئی ہندوستان کے حوالے سے حکمت یار کا مؤقف ہمیشہ پاکستان سے ہم آہنگ رہا، عالمی اسلامی تحریکیں حکمت یار کی حمایت کرتی رہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ عزام کے ساتھ حکمت یار کے اچھے مراسم تھے، ترکی سے لیکر مصر پاکستان تا ملائشیاء کم و بیش ہر خطے کے اسلامی تحریکوں کے نوجوان حکمت یار کی شخصیت کے اسیر رہے۔ ملائشیاء کے اسپتال میں بستر پہ لیٹے اور وزیراعظم انور ابراہیم کی جانب سے عیادت کی تصویر وائرل ہوتے ہی پاکستان میں بھی حکمت یار کے خلاف محاذ کھول دیا گیا اسے قصاب ظالم اور درندہ باور کرایا جارہا ہے۔
بیشک آج کی تاریخ میں حکمت یار کی سیاسی حیثیت ہے نہ عسکری مگر اس سب کے باوجود یہ وہ شخص تھا جو افغانستان پہ امریکی حملوں کے محض دو ماہ بعد کنڑ پہنچ چکا تھا جبکہ وہ بہترین وقت تھا کہ اقتدار میں حصہ حاصل کیا جاتا کیونکہ امریکا کو معروف ناموں کی اشد ضرورت تھی مگر حکمت یار نے مفاہمت کے بجائے مزاحمت کی راہ اختیار کی بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ کنڑ میں گلبدین حکمت یار کے پرانے ساتھی حاجی کاشمیر خان نے شیخ اسامہ اور حکمت یار کو ایک ساتھ کئی دن تک رکھا، حکمت یار اسامہ سے ان ملاقاتوں کا ذکر کرچکے ہیں کہ جب دونوں ہی امریکا کو مطلوب تھے۔ امریکا کیخلاف مزاحمت میں حکمت یار کی موجودگی علامتی تھی کیونکہ تنظیم بہت پہلے بکھر چکی تھی اور کارروائیوں کی تعداد کم تھی مگر بہرحال جب اقتدار طشتری میں رکھ کر دیا جائے وسائل بھی بے پناہ ہوں ایسے میں پہاڑوں میں رہنا ڈرونز کا سامنا اور امریکی فورسز کے چھاپوں سے بچتے رہنا بہت زیادہ مشکل فیصلہ تھا جو ایک صاحب کردار شخص ہی ادا کر سکتا تھا اور حکمت یار نے یہی کیا بعد میں البتہ حکمت یار نے ڈاکٹر اشرف غنی کے ساتھ مذاکرات کرکے سیاسی جدوجہد شروع کی حکمت یار کی سخت جانی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے جب موجودہ حکام نے کابل کا کنٹرول سنبھالا تو ڈاکٹر اشرف غنی سے لیکر امر اللہ صالح اور سیاف سے لیکر دوستم تک سب افغانستان سے فرار ہوگئے مگر حامد کرزئی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی طرح گلبدین حکمت یار بھی کابل میں موجود رہا حکمت یار کی بہرحال آج بھی اتنی اہمیت ضرور ہے کہ ملائشیاء کا وزیراعظم اسے سرکاری سطح پہ علاج کی سہولت دے رہا ہے۔ حکمت یار کو تحقیر کا نشانہ بناتے احباب صرف اس پہ ہی غور کرلیں کہ پاکستان کا دوست اور بہترین تعلق رکھنے والا حکمت یار اسلام آباد کے بجائے کوالالمپور کے شفا خانے میں کیوں علاج کرانے پہ مجبور ہوا ہے؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گلبدین حکمت یار حکمت یار نے حکمت یار کی حکمت یار کے کے ساتھ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ریسکیو 1122 نے صوبے بھر میں اپنی تمام ضلعی ٹیموں کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے باعث ضلع بنوں کے مختلف علاقوں میں اب تک 20 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مردان، پشاور اور دیگر اضلاع میں بھی آندھی اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد ایمرجنسی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
پشاور کے مختلف مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
بلال احمد فیضی نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی تمام ضلعی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بارش تیز ہوائیں خیبرپختونخوا زخمی وی نیوز