Jasarat News:
2026-07-24@07:14:22 GMT

گلبدین حکمت یار ایک نرم ہدف

اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260120-03-6

 

فیض اللہ خان

گلبدین حکمت یار ایک نرم ہدف ہے اوپر سے آج کل افغانوں کو کٹہرے میں کھڑا کرنا اور بھی آسان ہے اپنے ملک میں طاقتور کے آگے گھگھیانے اور چپ رہنے والے گلبدین کی تضحیک کر رہے ہیں حکمت یار بھی انسان ہے خامیوں سے مبراء نہیں نوے کی دہائی میں ہونے والی خانہ جنگی کا واحد ذمے دار اسے قرار دیکر حقائق سے آنکھیں چرائی جاتی ہیں مسعود ربانی سیاف مجددی اور دوستم اس میں بھرپور طریقے سے شامل تھے اور یہ سارے کے سارے متفق تھے کہ کابل حکمت یار کے حوالے نہیں کرنا ہے اسے بزور طاقت روکنا ہے حالانکہ حکمت یار کا مؤقف یہ تھا کہ کابل کا کنٹرول وہاں موجود تمام مزاحمتی تنظیموں کی میدانی قیادت کے سپرد کیا جائے ایک متفقہ شوریٰ ہو جو اگلے چھے ماہ یا سال میں انتخابات کرائے بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا اور جہاں اس کی افغان قیادت ذمے دار تھی وہاں اسلام آباد ریاض اور واشنگٹن بھی ایک صفحے پہ تھے کہ کابل میں اسلامی حکومت نہیں بننے دی جائے گی اور مغرب کے ساتھ روس بھی اس منصوبے سے مکمل اتفاق رکھتا تھا اس سب کے باوجود اس خانہ جنگی کی حمایت نہیں کی جاسکتی کہ بہرحال وہ غلطی ہی تھی مگر اس یاد دہانی کے ساتھ کہ سارا ملبہ حکمت یار پہ ڈالنا بھی غلطی ہی ہے۔ گلبدین حکمت یار نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کی۔ رونالڈ ریگن امریکا کے صدر تھے حکمت یار سے ان کے نمائندہ خصوصی اور بعض اطلاعات کے مطابق صاحبزادی نے

ریگن کا پیغام پہنچا کر آمادہ کرنے کی کوشش کی صدر ریگن سے دیگر افغان قیادت کے ہمراہ ملاقات کریں حکمت یار نے یہ پیشکش مسترد کردی اور اسلام آباد لوٹ گیا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر سے ملاقات کے لیے آج بھی کون کون کیسے تڑپتا ہے سب جانتے ہیں!

موجودہ افغان حکام نے قندھار سے کابل کی طرف سفر شروع کیا تو چہار آسیاب اور سروبی وغیرہ میں حکمت یار کے دستوں سے جھڑپیں ہوئی مگر جلد ہی حکمت یار نے پسپائی اختیار کی اور خود کو اس جنگ سے نکال کر ایران کا رخ کیا یہ چھیانوے کے ابتدائی ایام تھے ، گلبدین حکمت یار کی لڑائی مسعود و ربانی اور ان کے اتحادیوں سے تھی حکمت یار راستے سے ہٹ گیا اور موجودہ حکام نے حکمت یار کی جگہ لے لی اور ان کی جنگ بھی مسعود ربانی دوستم اور سیاف سے ہونے لگی افغان خانہ جنگی میں عربوں کے مختلف مؤقف تھے، مثلاً شیخ اسامہ اور ساتھی یہ کہہ کر علٰیحدہ ہوگئے کہ یہ مسلمانوں کی باہمی جنگ اور فساد ہے جبکہ عربوں کا دوسرا گروہ حکمت یار کے ساتھ یہ کہہ کر کھڑا ہوگیا مسعود و ربانی کے مقابل حکمت یار حق پہ ہے دلچسپ پہلو یہ ہی کہ محض پانچ سال کے فرق سے شیخ اسامہ اور ساتھی ملا عمر کی صفوں میں احمد شاہ مسعود برھان الدین ربانی عبد الرشید دوستم اور عبد الرب رسول سیاف کے مقابل کھڑے تھے جیسا کہ کبھی حکمت یار تھا۔

یہ گلبدین حکمت یار کے مراکز تھے جہاں مقبوضہ وادی کے نوجوانوں کو ابتدائی عسکری تربیت فراہم کی گئی ہندوستان کے حوالے سے حکمت یار کا مؤقف ہمیشہ پاکستان سے ہم آہنگ رہا، عالمی اسلامی تحریکیں حکمت یار کی حمایت کرتی رہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ عزام کے ساتھ حکمت یار کے اچھے مراسم تھے، ترکی سے لیکر مصر پاکستان تا ملائشیاء کم و بیش ہر خطے کے اسلامی تحریکوں کے نوجوان حکمت یار کی شخصیت کے اسیر رہے۔ ملائشیاء کے اسپتال میں بستر پہ لیٹے اور وزیراعظم انور ابراہیم کی جانب سے عیادت کی تصویر وائرل ہوتے ہی پاکستان میں بھی حکمت یار کے خلاف محاذ کھول دیا گیا اسے قصاب ظالم اور درندہ باور کرایا جارہا ہے۔

بیشک آج کی تاریخ میں حکمت یار کی سیاسی حیثیت ہے نہ عسکری مگر اس سب کے باوجود یہ وہ شخص تھا جو افغانستان پہ امریکی حملوں کے محض دو ماہ بعد کنڑ پہنچ چکا تھا جبکہ وہ بہترین وقت تھا کہ اقتدار میں حصہ حاصل کیا جاتا کیونکہ امریکا کو معروف ناموں کی اشد ضرورت تھی مگر حکمت یار نے مفاہمت کے بجائے مزاحمت کی راہ اختیار کی بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ کنڑ میں گلبدین حکمت یار کے پرانے ساتھی حاجی کاشمیر خان نے شیخ اسامہ اور حکمت یار کو ایک ساتھ کئی دن تک رکھا، حکمت یار اسامہ سے ان ملاقاتوں کا ذکر کرچکے ہیں کہ جب دونوں ہی امریکا کو مطلوب تھے۔ امریکا کیخلاف مزاحمت میں حکمت یار کی موجودگی علامتی تھی کیونکہ تنظیم بہت پہلے بکھر چکی تھی اور کارروائیوں کی تعداد کم تھی مگر بہرحال جب اقتدار طشتری میں رکھ کر دیا جائے وسائل بھی بے پناہ ہوں ایسے میں پہاڑوں میں رہنا ڈرونز کا سامنا اور امریکی فورسز کے چھاپوں سے بچتے رہنا بہت زیادہ مشکل فیصلہ تھا جو ایک صاحب کردار شخص ہی ادا کر سکتا تھا اور حکمت یار نے یہی کیا بعد میں البتہ حکمت یار نے ڈاکٹر اشرف غنی کے ساتھ مذاکرات کرکے سیاسی جدوجہد شروع کی حکمت یار کی سخت جانی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے جب موجودہ حکام نے کابل کا کنٹرول سنبھالا تو ڈاکٹر اشرف غنی سے لیکر امر اللہ صالح اور سیاف سے لیکر دوستم تک سب افغانستان سے فرار ہوگئے مگر حامد کرزئی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی طرح گلبدین حکمت یار بھی کابل میں موجود رہا حکمت یار کی بہرحال آج بھی اتنی اہمیت ضرور ہے کہ ملائشیاء کا وزیراعظم اسے سرکاری سطح پہ علاج کی سہولت دے رہا ہے۔ حکمت یار کو تحقیر کا نشانہ بناتے احباب صرف اس پہ ہی غور کرلیں کہ پاکستان کا دوست اور بہترین تعلق رکھنے والا حکمت یار اسلام آباد کے بجائے کوالالمپور کے شفا خانے میں کیوں علاج کرانے پہ مجبور ہوا ہے؟

 

فیض اللہ خان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گلبدین حکمت یار حکمت یار کے حکمت یار نے حکمت یار کی کے ساتھ

پڑھیں:

بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی

 بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔

وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026


بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔

وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔

مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی

واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔

مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔

ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔

متعلقہ مضامین